اسرائیلی سپریم کورٹ میں غزہ کے لئے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں پر سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل کے لئے بدھ کا دن بھاری ترین دنوں میں سے اہم دن رہا ہے۔ عدالت میں اسرائیل کو پانچ اسرائیلی اداروں نے بھی جوابدہ بنانے کے لئے پٹیشن دائر کر رکھی ہے کہ اسرائیل ایک قابض رہاست ہوتے ہوئے غزہ میں امدادی اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ اسرائیل کو اس سے روکا جائے۔

بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کو اس طرح کے مقدمات کا سامنا پہلے بھی رہا ہے مگر بدھ کے روز اسرائیل کو اپنی ہی سپریم کورٹ میں اس بارے میں جواب دینے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔اسرائیلی سپریم کورٹ میں اسرائیلی حکومت اور ریاست کو فریق بناتے ہوئے یہ درخواست پانچ غیر منافع بخش گروپوں نے دائر کی تھی ۔ ان کی طرف سے بھی اسرائیل پر الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ میں انسانی بنیادوں پر آنے والی امداد کو روک رہے ہیں۔

اس ناطے ایک قابض اسرائیل اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے خلاف سرگرم ہے۔

واضح رہے اسرائیل جو سات اکتوبر سے غزہ میں جنگ لڑ رہا ہے وہ اس امر پر اصرار کرتا ہے کہ اس نے امدادی سرگرمیوں کو روکا نہیں ہے مگر اس کی فوج نے نہ صرف بھوک اور قحط کی زد میں زندہ فلسطینیوں پر فائرنگ کر کے سینکڑوں فلسطینی ہلاک کئے ہیں بلکہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف بین الاقوامی امدادی ٹیموں کے ارکان کو بھی ہلاک کیا ہے ۔ خود اسرائیلی فوج نے غزہ کو مسلسل زیر محاصرہ رکھا ہواہے۔

یہ اس کے باوجود ہے کہ اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط کی نشاندہی کر رکھی ہے اور کہہ رکھا ہے کہ غزہ میں انسانی ساختہ قحط کا فلسطینی عوام کو سامنا ہے۔ اسراییل پھر بھی دعوےدار ہے کہ وہ امدادی سامان کی ترسیل نہیں روکتا یے۔

اسرائیل کو غزہ کا امداد میں اضافے سے متعلق عدالت میں دائر اسی درخواست کا جواب دینے کا بدھ کے روز پابند بنایا گیا تھا۔ بدھ کو اس سلسلے میں عدالت میں جواب داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی۔

اسراییل کا اصرار ہے کہ وہ امداد فراہمی کو محدود نہیں کرتا بلکہ وہ اس کوتاہی کا ذمہ دار غزہ کے اندر امدادی ایجنسیوں اور خیراتی اداروں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ پانچ این جی اوز اسراییل کے اس دعوے کو ماننے سے انکاری ہیں اس لئے انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

ان مدعی گروپوں میں سے ایک حقوق گروپ کانام گیشا ہے۔ اس کی مریم مارمر نے کہنا ہے ' گزشتہ ہفتے ایک سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ بدھ تک انسانی امداد کے بہاؤ کو بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں اپ ڈیٹ رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ '

مارمر نے خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کو بتایا جب ریاست اپنا جواب جمع کرائے گی تو درخواست دائر کرنے والی تنظیموں کو اس کا جواب دینے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا جائے گا، جس کے بعد عدالت اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔'

مارمر کے مطابق ' جہاں اسرائیل نے غزہ کے اندر امداد کی مناسب تقسیم نہ کرنے کا بڑے پیمانے پر اقوام متحدہ پر الزام لگایا ہے، وہیں اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے عہدیداروں نے سخت ضرورت کے سامان کے داخلے پر پابندیوں اور انتظامی طور پر خلل ڈالنے کی مذمت بھی کی ہے۔'

حکام نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جنگ سے پہلے روزانہ کم از کم 500 امدادی اور تجارتی ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے تھے۔ منگل کے روز، اسرائیلی حکام نے کہا کہ 468 ٹرکوں کو اندر جانے دیا گیا، جو کہ موجودہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم یہ معمول بالکل نہیں ہے۔ یہ ایک دن کی عدالتی ضرورت کے پیش نظر مجبوری کی رپورٹ کا لوازمہ ہے۔

اقوم متحدہ کے زیر انتظام ادارے ' اوچھا' کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق مارچ تک امدادی اشیا ء کی غزہ میں فراہمی کی اسرائیل سے اجازت ملنے میں بد ترین مشکلات ریی ییں۔ اس سلسلے میں اسرائیلی حکمت عملی نے شمالی غزہ میں سب سے زیادہ انسانی ساختہ قحط کا امکان بڑھایا ہے۔ جہاں ستر فیصد فلسطینی خوراک سے ابھی دور کر دیے گئے ہیں۔ اوچھا کی ترجمان جینز لارکئی نے جنیوا میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا' امدادی قافلوں کو روک دیا جاتا رہا ہے۔'

مامر نے دوہر استعمال کی مبینہ اشیاء کو اسرائیل کی طرف سے روکے جانے کے جواز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ' یہ غلط ہے کہ یہ جنگی مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ اسرائیل نے تو جنگ سے بہت پہلے سے ہی غزہ میں ان کی منتقلی روک رکھی تھی۔'
بھوک کے انسداد کے لیے کام کرنے والی تنظیم' ایکشن اگینسٹ ہنگر ' کے جین رافیل پوائٹو نے' اے ایف پی' کو بتایا دوہری اشیاء کی فہرست میں ایک شمسی پینل اور جنریٹر بھی ہیں ، یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی ہمیں غزہ میں زیادہ مؤثر طریقے سے ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہونے کی ضرورت ہے۔'

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز ' کے لاجسٹک کوآرڈینیٹر، الیگزینڈر فورٹ نے کہا کہ اسرائیلی دعووں کے باوجود کہ امداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، علاقے میں امدادی سامان کی فراہمی ممکن بنانا اور پہنچانا ایک طویل اور مشکل عمل ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں