جیش العدل کے حملے میں چھ ایرانی پولیس اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تسنیم نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ سوران مہرستان محور میں ایرانی پولیس کی دو گاڑیوں پر مسلح حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم چھ پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جیش العدل کے حملے میں 6 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ذرائع نے وضاحت کی کہ خبر شائع ہونے سے ایک گھنٹہ قبل صوبہ سیستان اور بلوچستان میں سوران مہرستان روڈ پر پولیس کی دو کاروں پر "دہشت گردوں" نے حملہ کیا اور اس حملے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اس کے کچھ دیر بعد تسنیم ایجنسی نے حملے کے بارے میں نئی تفصیلات شائع کیں اور بتایا کہ پولیس افسر حسین علی شیبک کے قتل کے مرکزی ملزم کو لے جا رہی تھی جب وہ مسلح حملے کا نشانہ بنے۔

ٹیلی گرام پر بلوچستان مانیٹرنگ چینل کے ایک ذریعے کے مطابق "جیش العدل کے عسکریت پسندوں نے اس حملے میں سائلنسر سے لیس ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ اس لیے گولی چلنے کی آواز نہیں سنی گئی۔"

جیش العدل نے ایک مختصر بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں کہا گیا کہ جس فورس پر حملہ کیا گیا وہ ایک انٹیلی جنس آپریشنل یونٹ تھا جس کے ساتھ خصوصی دستے بھی تھے۔

4 اپریل کو سنی باغی گروپ نے راسک شہر میں پاسداران انقلاب کے ایک اڈے اور سیستان-بلوچستان کے چاہ بہار میں ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے والے راتوں رات دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ حکام کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق16 پولیس اہلکار اور 18 حملہ آور مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں