حماس اور ایران کے درمیان رقوم کی منتقلی کا سہولت کار لبنانی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سکیورٹی ذریعے نے بدھ کو خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ واشنگٹن کی طرف سے بلیک لسٹ ایک لبنانی جس پر ایران سے فلسطینی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کو رقوم کی منتقلی میں سہولت کاری کا الزام لگایا گیا تھا کو بیروت کے قریب ہلاک کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محمد سرور کو منگل کو لبنان کے دارالحکومت کے قریب بیت مری نامی قصبے کے ایک گھر میں کم از کم پانچ گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

ذرائع نے اشارہ کیا کہ سرور ایک رقم لے کر جا رہا تھا تاہم اس کے قاتل رقم چوری نہیں کرسکے۔

دوسری جانب لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے منگل کی شام اطلاع دی کہ بیت مری کے قریب 57 سالہ "شہری (ایم ای ایس.)" کی لاش ملی۔

سکیورٹی ذرائع نے ’اےایف پی‘کوبتایا کہ یہ شخص محمد سرور ہے جسے امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سرور لبنانی حزب اللہ سے وابستہ مالیاتی اداروں میں کام کر رہا تھا جو ایران کا وفادار اور اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کا اتحادی ہے۔

اگست 2019ء میں امریکی محکمہ خزانہ نے "قدس فورس سے دسیوں ملین ڈالر" کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں سرور سمیت چار افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ القدس فورس کو ایرانی پاسداران انقلاب کی غیر ملکی آپریشنل یونٹ قرار دیا جاتا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے اس وقت اشارہ کیا تھا کہ سرور "دسیوں ملین ڈالر سالانہ القدس فورس سےحماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کو منتقل کرنے کا ذمہ دار ہے"۔

امریکہ کا کہنا تھا کہ سرور 2014ء تک دونوں فریقوں حماس اور ایران کے درمیان تمام مالیاتی منتقلیوں کا ذمہ دار تھا۔ وہ طویل عرصے سے بنک میں ملازم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں