اسماعیل ھنیہ کےبیٹوں کی ٹارگٹ کلنگ پرنیتن یاہواورفوجی قیادت کواعتماد میں نہیں لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے تین بیٹوں اور پوتوں کو بمباری سے نشانہ بنانے کے لیے وزیراعظم نیتن یاہو یا سینیئر فوجی قیادت سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ مقامی فوجی کمان نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا۔

سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے اسرائیلی خبر رساں ادارے 'والا نیوز ایجنسی' نے رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے وزیراعظم نیتن یاہو کو اعتماد میں لیا گیا تھا نہ وزیر دفاع یواو گیلنٹ سے پیشگی مشورے و رہنمائی کے لیے رابطہ کیا تھا۔

خیال رہے یہ حملہ اسرائیلی فوج کے حساس ادارے 'شین بیٹ انٹیلیجنس سروسز' کی وجہ سے ممکن ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسماعیل ھنیہ کے بیٹوں عامر ، محمد اور حازم کو جنگجوؤں کے طور پر ٹارگٹ کیا گیا نہ کہ ایک سیاسی رہنما کے بیٹوں کے طور پر۔

اسرائیلی فوج نے اس بارے میں بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ اس نے اسماعیل ھنیہ کے چار پوتوں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے 'والا نیوز ایجنسی' کی اس رپورٹ کے بارے میں فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ حتیٰ کہ فوج نے بھی اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے اسماعیل ھنیہ کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کی اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں مذاکراتی عمل اور جنگ بندی کی کوششوں کے لیے خطرہ اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جن کوششوں کے نتیجے میں امکانی طور پر اسرائیل کے 133 یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔

دریں اثناء اسماعیل ھنیہ نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں جنگ بندی سے متعلق کہا ہے کہ حماس بہت واضح ہے کہ کسی جنگی وقفے کے لیے اس کے مطالبات کیا ہیں۔

حماس رہنما اسماعیل ھنیہ نے کہا 'اگر ہمارا دشمن یہ سمجھتا ہے کہ میرے بیٹوں کو نشانہ بنا کر حماس کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا تو دشمن خود فریبی کا شکار ہے۔'

'میں یہ صرف امید ہی کر سکتا ہوں کہ یہ واقعہ اسرائیل کے ساتھ جنگی بندی مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ میں یہ امید کرتا ہوں کہ حماس اس واقعہ کے بعد زیادہ سخت شرائط ڈیل کے لیے سامنے نہیں لائے گی۔' یہ بات آفری لیوی بی باس نے کہی ہے جس کے بھائی، بیگم اور بچوں کو حماس نے 7 اکتوبر کو یرغمالی بنایا تھا۔

اسرائیل کے ایک دائیں بازو کے اخبار 'ہیوم' کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے لیے ضابطہ کار کی پیروی کی گئی۔ مگر ایک سوال بڑا اہم رہا کہ اس قدر حساس ٹارگٹ کو اڑانے کے لیے سینیئر حکام سے پیشگی مشورے اور اجازت کے بغیر کارروائی کی جانی چاہیے یا نہیں۔

اسرائیل کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اخبار 'ہارٹز' کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور اس کی حکومت نے ایک ہفتہ پہلے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا اور سنیئر کمانڈرز کو بھی ہلاک کیا۔ یہ واقعہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی جنگ بندی کی کوششوں کو روکنے کے لیے کافی تھا۔ یہ ایک اشتعال انگیز اور جارحانہ واقعہ تھا۔ اس سے پہلے ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جس میں 'ورلڈ سینٹرل کچن' کی 7 رکنی ٹیم کو غلط اندازے کی وجہ سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب عالمی سطح پر جنگ بندی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے خصوصاً ایسے حالات میں جب غزہ میں اسرائیلی جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔

حماس غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء اور غزہ سے بےگھر ہو کر نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی ان کے گھروں اور علاقوں میں واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جبکہ اسرائیل یرغمالیوں کی گھروں کو واپسی چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ کہتا ہے کہ اس وقت تک جنگ ختم نہیں کی جائے گی جب تک حماس کو ختم نہیں کیا جاتا۔ نیز اسرائیل نے رفح پر زمینی جنگ مسلط کرنے کی بھی تیاری کر رکھی ہے۔ جہاں 15 لاکھ کے قریب فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں