یورو ویژن میں اسرائیلی شرکت کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بدھ کے روز یورو ویژن گانوں کے مقابلے کے میزبان اسرائیل کے بائیکاٹ کا ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسرائیل یورو ویژن کی میزبانی اگلے ماہ کر رہا ہے۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ یورو ویژن میں اسرائیل کو شرکت نہ کرنے دی جائے۔

مالمو کے رہائشی 34 سالہ میٹس ریہل نے کہا 'روس کو بھی خلاف ورزیوں پر یورو ویژن سے نکالا گیا تھا۔ اسرائیل بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کھلے عام کر رہا ہے۔ اسرائیل کو یورو ویژن میں حصہ دلوانا دوہرا معیار ہے۔'

مظاہرین نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے۔ ایک بینر پر خون کے دھبے بھی لگے ہوئے تھے۔

خیال رہے روس کے یوکرین پر حملوں کی وجہ سے روس کی یورو ویژن مقابلوں میں شرکت پر پابندی لگائی تھی۔ یہ پابندی 2022 کے یورو ویژن گانوں کے مقابلے پر لگائی گئی تھی۔

یورو ویژن انتظامیہ نے اسرائیلی شرکت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بارے میں ماہ جنوری میں کہا تھا ' گانوں کے مقابلے حکومتوں کے درمیان نہیں ہیں۔ اسرائیل یورو ویژن کے قواعد و ضوابط کے تحت مقابلے میں شرکت کر رہا ہے اور یہ سیاسی تقریب نہیں ہے۔'

یورو ویژن انتظامیہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے 'ہم غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت کرتے ہیں۔ ظلم و تشدد کی تصویروں اور واقعات نے ہمیں متاثر کیا ہے۔ تاہم ان حالات و واقعات پر گلوکاروں کو نشانہ بنانے کی مہم کو بات چیت کے ذریعے دور کرنا چاہتے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں