فلسطین اسرائیل تنازع

اقوام متحدہ اور اسرائیل میں غزہ پہنچنے والے امدادہ ٹرکوں کی تعداد پر اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے اقوام متحدہ پر الزام لگایا ہے کہ اقوام متحدہ غزہ میں داخل ہونے والے امدادی سامان کے ٹرکوں کی گنتی کم ظاہر کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ گنتی کا غلط طریقہ استعمال کر رہا ہے۔ تاکہ اسرائیل پر دباو ڈال سکے کہ اسرائیل مزید ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے دے۔

اقوام متحدہ پر اسرائیل نے یہ الزام اس وقت دھرا ہے جب اسرائیل کو عدالتی اور سفارتی سطح پر انسانی بنیادوں پر غزہ میں سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے جوابدہی کرنا پڑ رہی ہے۔ اسرائیل کو اس مقصد کے لئے زیادہ تعداد میں ٹرکوں کی غزہ آمد ظاہر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس نے اقوام متحدہ پر الزام لگایا ہے کہ یہ تعداد کو کم کر کے پیش کرتا ہے۔

خیال رہے پچھلے چھ ماہ کی غزہ میں جنگ کے نتیجے میں اب تک اسرائیلی فوج نے 33390 فلسطینیوں کو قتل اور تقریبا 23 لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ جبکہ غزہ میں مسلسل ناکہ بندی کی وجہ سے بھوک اور قحط کا راج ہے۔ اسرائیل کا ہدف غزہ سے حماس کی حکومت خاتمہ اور حماس کا مکمل صفایا کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں سمیت تمام امدادی ادارے اسرائیل پر زور دیتے ہیں کہ غزہ میں خوراک کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو مزید دور رکے تاکہ فلسطینیوں کو قحط سے بچایا جا سکے اور چھوٹی سی اس غزہ کی پٹی کے اندر خوراک کی اس تقسیم کے نظام کو چلنے دے۔

اس صورتحال میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ پیر کے روز امدادی سامان کے ساتھ 419 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق 419 ٹرکوں کو نہیں بلکہ صرف 223 ٹرکوں کو غزہ کے اندر داخل ہونے دیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی ایک شاخ 'کوگاٹ' اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ٹرکوں کی تعداد میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ دونوں مختلف طریقوں سے گنتے کر رہے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے گنتی غلط طریقے سے کی جا رہی ہے۔ جس سے ٹرکوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ غزہ کی پٹی پر داخل ہونے والے ٹرکوں کی حقیقی تعداد کو گنیں۔ اس طریقے سے یو این ان اعداد و شمار کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے جو غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کے حوالے سے ہیں۔ اقوام متحدہ صرف ان ٹرکوں کو گنتی میں شامل کر رہا ہے جنہیں وہ غزہ کے اندر خوراک تقسیم کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے 'اوچا' کے ترجمان جینز لارکی نے منگل کے روز کہا کہ 'اسرائیل جزوی سامان لانے والے ٹرکوں کو مکمل بھرے ہوئے ٹرکوں کی گنتی میں شامل کر رہا ہے۔ ہم صرف ان ٹرکوں کو گنتے ہیں جن ٹرکوں کا سامان ہمارے گوداموں تک پہنچتا ہے۔ جبکہ کوگاٹ ان ٹرکوں کو گنتا ہے جنہیں اپنے ہاں اندراج کرتا ہے اور بارڈر کراس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ امدادی سامان کا وہ ٹرک غزہ پہنچتا ہے یا نہیں یہ 'کوگاٹ' کے لیے اہم نہیں ہے۔'

جینز لارکی نے کہا یہ ٹرک عام طور پر سامان سے مکمل بھرے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ ان میں عام طور پر آدھے کے قریب سامان ہوتا ہے۔ ٹرکوں کی تعداد کو ظاہر کرنے لے لیے 'کوگاٹ' کی طرف سے ایسا کیا جاتا ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں