اسرائیلی ماڈل کے’سیلپنگ ڈریس‘ نے’زارا‘ فیشن برانڈ کے لیے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مشہور فیشن برانڈ’زارا‘ ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے۔ اس بار فیشن برانڈ کی ایک نئی مہم میں ایک اسرائیلی فیشن ماڈل کی ’سلیپنگ ڈریس‘ میں تصویر ہے جسے برانڈ کی ایک اشتہاری مہم کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی ماڈل سن مزراحی نے مشہور فیشن برانڈ "زارا" کے لیے نئے تنازع کو جنم دیا جب وہ اس برانڈ کے لیے ایک نئی مہم میں مختصر "سلیپنگ لباس " پہنے نظر آئیں۔

سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے مزراحی کی نئی مہم میں شرکت کو فلسطینیوں کےخلاف اسرائیلی پالیسی کی حمایت قرار دیا۔

بہت سے صارفین نے ’زارا‘فیشن برانڈ کے فلسطینی مسئلے کے حوالے سے اس کے مؤقف کی وجہ سے اس کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کیا۔ فلسطینیوں میں اس کے خلاف غصہ اس لیے ہے کیونکہ ’زارا‘ نے اسرائیلی بستیوں میں اپنی مصنوعات کی فروخت بند کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

بہت سے صارفین نے ماڈل کے فیشن کی تعریف کی جو کہ بڑی تعداد میں بین الاقوامی فیشن برانڈز جیسے چینل اور دیگر کے لیے دکھائے گئے تھے۔

زارا نے ابھی تک اپنی نئی مہم سے متعلق تنازعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یہ متنازعہ مہم کئی مہینوں بعد سامنے آئی ہے جب ’زارا‘ پر "غزہ جنگ" سے متاثر کفنوں، تابوتوں اور تباہی کی تصاویر والا ایک تجارتی اشتہار جاری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، جس نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا تھا۔

بین الاقوامی فیشن ہاؤس نے اپنی تازہ ترین کلیکشن دی جیکٹ کے لیے اپنی اشتہاری مہم کی تصاویر کو ڈیلیٹ کر دیا تھا، جس نے سوشل میڈیا کے کارکنوں میں بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا تھا کیونکہ اس میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے متاثرین کا مذاق اڑایا گیا تھا۔

’زارا‘ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے باضابطہ طور پر معذرت کرتے ہوئے ایک بیان میں وضاحت کی کہ اس مہم کا بنیادی مقصد مجسمہ سازوں کے فن کو فنکارانہ تناظر میں اجاگر کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مجموعہ گذشتہ سال جولائی میں ڈیزائن کیا گیا تھا اور ستمبر میں اس کی تصویر کشی کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں