اسرائیل: بنیاد پرست یہودیوں کا عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج

وزیر داخلہ نے لازمی فوجی خدمات کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی انتہا پسند مذبی جماعت شاز سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کٹر مذہبی یہودیوں کو فوج میں لازمی خدمات کے حوالے سے ملا ہوا استثناء ختم کیا جانا ضروری ہے۔ وزیر داخلہ موشے اربیل کا کہنا ہے کہ حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے بعد استثناء باقی رکھنے کا جواز نہیں رہا ہے۔

انہوں نے کہا اب اس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے کہ آرتھوڈوکس کٹر یہودی مذہبیوں کو یہ حق حاصل رہے کہ وہ اسرائیل کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داری سے رعایت طلب کرتے رہیں۔ موشے کا یہ مطالبہ آرتھوڈوکس انتہائی کٹر اور بنیاد پرست قسم کے یہودیوں کے طبقے میں سے ایسی پہلی آواز ہے جس نے اسرائیل میں بنیاد پرست یہودیوں کے دیرینہ مؤقف کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے شاز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ موشے خود بھی اسی بنیاد پرست کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اسرائیلی فوج میں نوجوانی میں لازمی خدمات انجام دی تھیں۔ جس پر ان کے رشتہ دار اور آس پاس کے لوگ سخت تنقید کرتے رہے۔ لیکن اب انہوں نے وزیر بننے کے بعد اپنی کمیونٹی کو حاصل شدہ اس استثنائی حق کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے پچھلے مہینے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کئی دہائیوں سے بنیاد پرست مذہبی یہودیوں کو حاصل شدہ استثناء اب ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی رو سے یکم اپریل سے یہ استثناء باقی نہیں رہا ہے۔ حکومت میں شامل انتہا پسند اور بنیاد پرست جماعتوں کے نمائندے اسرائیلی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے حوالے سے کوئی نیا راستہ تلاش کرنے کے لیے غور و فکر کر رہے ہیں۔ تاکہ باہم کسی ایک چیز پر سمجھوتہ کر سکیں۔

اسرائیل میں قانون کے مطابق یہ لازم ہے کہ ہر اسرائیلی نوجوان مرد 32 ماہ تک فوج میں لازمی خدمات انجام دے گا اور اسلحہ کے استعمال کی تربیت حاصل کرے گا۔ جبکہ ہر اسرائیلی خاتون کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ 2 سال کے لیے اس فوجی تربیت اور خدمات کے مرحلے سے گزرے گی۔ لیکن مذہبی اور بنیاد پرست یہودیوں کے لیے اس قانون سے استثناء موجود ہے۔

مگر وزیر داخلہ موشے اربیل نے کہا ہے کہ ہماری مذہبی کمیونٹی کو اب بدلے ہوئے حالات میں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ممکن نہیں رہا ہے خصوصاً حماس کے 7 اکتوبر کے خوفناک حملوں کے بعد یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کے کیے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔ ان کے بقول سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے کیے گئے حملوں کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مگر بنیاد پرست یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے اسرائیلی فوج میں جانا اس لیے بھی غیر مناسب ہے کہ وہاں مختلف مذہبی اور غیر مذہبی رجحانات کے لوگوں کے ساتھ میل ملاقات رکھنی پڑے گی۔ نیز اسرائیلی فوج ایک مخلوط فوج ہے جو مذہبی خیالات کے برعکس ہے۔

کئی دہائیاں پہلے جب انہیں استثناء دیا گیا تھا تو ابتدائی طور پر یہودی مدارس میں پڑھنے والے صرف 400 بنیاد پرست مذہبی طلبہ کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنی ساری توجہ مذہبی تعلیم کے حصول اور مذہب کے پرچار پر مرکوز رکھیں۔ تاہم اب یہ تعداد 400 سے بڑھ کر 66000 ہو چکی ہے اور 66000 کٹر بنیاد پرست یہودی اس رعایت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

خیال ریے اسرائیل میں بنیاد پرست مذہبی یہودیوں کی تعداد اس وقت 13 لاکھ ہے۔ تاہم ان کی آبادی میں اضافہ عام یہودیوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اس وجہ سے کم مذہبی یہودی یا غیر مذہبی یہودی طبقات انہیں استثناء دیے رکھنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

جمعرات کے روز ہزاروں بنیاد پرست یہودیوں نے عدالتی فیصلے کے ذریعے ختم کیے گئے اس استثناء کو بحال کرنے کے حق میں احتجاج کیا اور سڑکوں پر نکل آئے۔ بنیاد پرست یہودیوں نے یروشلم میں یہ مظاہرے کیے۔ اس سے کئی روز پہلے لازمی فوجی خدمات سے استثناء ختم کرنے کے حامی ہزاروں اسرائیلی شہری بھی سڑکوں پر احتجاج کر چکے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ مذہبی یہودیوں کو یہ امتیازی حق نہیں ملنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں