ایرانی دھمکی کے پیشِ نظر اسرائیل میں امریکی عملے کے بیرونِ شہر سفر پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے اسرائیل میں اپنے ملازمین اور ان کے افرادِ خانہ کو تل ابیب، یروشلم اور بئر السبع کے علاقوں سے باہر ذاتی سفر پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ ایران نے اپنے علاقائی دشمن اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں۔

ایران نے یکم اپریل کو دمشق میں اپنے سفارت خانے کے احاطے پر اسرائیل کے فضائی حملے کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جو پہلے ہی غزہ جنگ کی بنا پر تناؤ کا شکار ہے۔

امریکی سفارت خانے نے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر ایک سکیورٹی الرٹ میں کہا، "احتیاط کی شدت کے باعث امریکی حکومت کے ملازمین اور ان کے افرادِ خانہ کے تل ابیب (بشمول ہرزلیہ، نیتنیہ اور ایفن یہودا)، یروشلم اور بئر السبع کے علاقوں سے باہر ذاتی سفر پر تا حکمِ ثانی پابندی ہے۔"

"امریکی حکومت کے اہلکار ذاتی سفر کے لیے ان تین علاقوں کے درمیان سفر کے مجاز ہیں۔"

واشنگٹن کی پالیسی ہے کہ جب وہ کسی ملک میں اپنے اہلکاروں کے لیے حفاظتی اقدامات اپ ڈیٹ کرتا ہے تو اس طرح کے انتباہات کے ذریعے تمام امریکی شہریوں کو اطلاع دی جاتی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو کہا کہ ایران نے "اسرائیل میں اہم حملہ" کرنے کی دھمکی دی ہے اور یہ کہ امریکہ اپنے اتحادی کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔

سیکورٹی الرٹ کے بارے میں سوال پر محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے نوٹ کیا کہ ایران اسرائیل کو کھلے عام دھمکیاں دے رہا تھا۔

ملر نے ایک پریس بریفنگ میں کہا، "ہم ہر وقت زمینی صورتِ حال کے بارے میں جاری جائزہ لیتے ہیں۔"

"میں ان مخصوص جائزوں پر بات نہیں کر رہا جن کی بنا پر ہم نے اپنے ملازمین اور ان کے افرادِ خانہ کے ذاتی سفر کو محدود کیا ہے لیکن واضح طور پر ہم شرقِ اوسط اور بالخصوص اسرائیل میں خطرے کے ماحول کی نگرانی کر رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں