ایران کو اسرائیل پر حملے سے روکا جائے ، امریکہ کا چین ، ترکیہ اور یورپی ملکوں سے رابط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حالیہ حملے کا جواب دینے سے ایران کو روکنے کے لئے چین سے کہا ہے کہ ایران کو ایسا کر نے سے روکنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے چینی ہم منصب سے فون پر بات کی اور چین کو کردار ادا کر نے کے لئے کہا کہ ایران اسرائیل پر حملہ نہ کرے ۔

امریکی دفتر خارجہ نے اس فون کال کے بارے میں جمعرات کے روز بریف کیا ہے ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا 'انٹونی بلنکن نے چین ، ترکیہ اور بعض یورپی ہم منصبوں کے ساتھ فون پر بات کی ہے۔ تاکہ یہ واضح کر دیا جائے کہ کشیدگی کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ تمام ملک ایران پر زور دیں کہ ایران کشیدگی کو نہ بڑھائے۔

بتایا گیا ہے کہ بلنکن نے اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ سے بھی فون پر بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ خطرے کی صورتحال میں امریکہ پوری طرح اسرائیل کے ساتھ ہے۔

ایران کی قیادت نے دمشق میں قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد دھمکی دی ہے کہ ہم اس کا ضرور بدلہ لیں گے اور اسرائیل کو سزا دی جائے گی۔ دریں اثناء وائٹ ہاوس کی ترجمان کرائن جین پیئر نے بھی ایران کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو دھمکیاں دینے اور اسرائیل کے لیے خطرہ بننے سے باز رہے۔

صدر جوبائیڈن بھی واضح اور دوٹوک انداز میں کہہ چکے ہیں کہ نیتن یاہو کی غزہ میں جنگی پالیسی کے خلاف ہونے کے باوجود اسرائیلی سلامتی کے لیے امریکہ کی حمایت پر مبنی پالیسی اٹوٹ اور آہن پوش رہی ہے اور آئندہ بھی آہن پوش رہے گی۔

امریکہ کھلے عام بار بار چین سے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے امن کے کیے زیادہ بہتر کردار ادا کرے۔ اس سلسلے میں حماس کے حامی ایران پر دباؤ ڈالے کہ وہ بھی باز رہے۔ جواب میں بیجنگ نے امریکہ پر تنقید کی ہے کہ امریکہ اسرائیل کے حق میں تعصب رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں