سعودی باورچیوں کی محنت اور لذیذ پکوانوں کی کوششوں نے عید کی خوشی دوبالا کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مختلف قسم کی مٹھائیاں، نئے کھانے اور روایتی پکوانوں میں مزیدار لمس شامل کیے جانے سے ان کا ذائقہ منفرد اور زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ ہر سال چھٹیوں کا موسم آتے ہی سعودی شیفس زیادہ محنت کے ساتھ اور زیادہ جدت کے ساتھ کھابے تیار کرتے ہیں، تاکہ عید کے دسترخوانوں میں ایک منفرد ذائقہ اور شاندار ٹیسٹ شامل کیا جا سکے کیونکہ کھانوں میں ذائقے کی جدت اور لذت عید کی خوشی کو دوبالا کرتی ہے۔

عید کے دنوں میں سعودی صبح کے وقت دسترخوان کے ارد گرد جمع ہوتے ہیں، جن میں اکثر ملک کے علاقوں کے لیے مخصوص لذیذ روایتی کھانے ہوتے ہیں۔ ان میں المندی، حنیذ، جریش اور نئے اقسام کے پکوان شامل ہوتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب سعودی کھانے بین الاقوامی پکوان تہواروں میں اپنی بین الاقوامی شرکت کے ذریعے نمایاں موجودگی ریکارڈ کر رہے ہیں تاکہ قدیم تنوع کی شرکت کو بڑھایا جا سکے وہ تعطیلات کے سیزن مزیدار چیزیں فراہم کرنے میں اپنی کوششیں دوگنا کردیتے ہیں۔

عید پر باورچیوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے

ایک سعودی شیف سامی العنزی کہتے ہیں کہ "سعودی شیف کے طور پر میرے تجربے نے خاص طور پر رمضان میں اور عید کے دنوں میں مجھے نجدی کھانے پیش کرنے کی طرف مائل کیا۔ اس عرصے کے دوران مرقوق، قرصان اور جریش جیسے روایتی پکوانوں کی مانگ بڑھ جاتی۔یہ نجدی پکوان ہیں اور عید کے ایام میں انہیں خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سےبات کرتے ہوئے سامی العنزی نے کہا کہ عالمی منظر نامے پر سعودی کھانوں کی ترقی کے لیے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں، خاص طور پر دنیا بھر سے سیاحوں کی مملکت میں آمد پر مملکت کے روایتی پکوانوں کی اہمیت بڑح جاتی ہے۔

توازن اور ذائقے کا تحفظ

انہوں نے نشاندہی کی کہ سعودی باورچیوں کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں اور روایتی ذائقے کے درمیان توازن حاصل کرنا اور روایتی سعودی کھانوں کے ذائقے اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ سعودی کھانوں میں نئے رجحانات ہیں۔ جیسا کہ حساوی چاول، نجرانی گھی اور مقامی مصالحوں کو جدید طریقوں سے پیش کرنے کے لیے جدید طریقے سے استعمال کرنا وغیرہ۔

خاتون شیف عائشہ الشہرانی نے کہا کہ رمضان اور عید الفطر کے دوران اپنے کام کے دوران انہوں نے سعودی کھانوں کی بھرپور روایات کے ساتھ جدت طرازی کی اور ساتھ ہی ایسے پکوان بھی پیش کیے جو اختراعی لمس کی اصلیت کو برقرار رکھتے ہیں۔

چیلنجز اور اسباق

انہوں نے کہا کہ سعودی شیف کے طور پر انہیں جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا وہ اسباق تھے کہ انہوں نے اس شعبے میں اپنے جذبے اور خواہش کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنی۔انہوں نے نوجوان شیفوں کو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جذبہ، عزم اور استقامت کا مشورہ دیا۔ سعودی کھانوں کی افزودگی کے لیے شیفوں کا پرعزم ہونا ضروری ہے کیونکہ سعودی عرب کے کھانے اب عالمی سطح پر مضبوط مقابلہ کر رہے ہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں