غزہ میں رکاوٹ کے بغیر امدادی سرگرمیوں کے لئے اسرائیل مزید اقدامات کرے: سلامتی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز اسرائیل کی طرف سے حالیہ دنوں میں غزہ میں امدادی سرگرمیاں بڑھانے کے وعدوں کے سامنے آنے بعد بھی کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مزید اقدامات کرے۔ سلامتی کونسل کے ارکان کی طرف سے لکھے گئے ایک خط میں اسرائیلی تازہ کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل تیز اور آسان کرنے کے لئے کچھ اور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل کے مشترکہ مطالبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'اسرائیل کی طرف سے ایریز راہداری کو کھولنے کا اعلان خوش آئند ہے کہ اب اسرائیلی اشدود بندرگاہ بھی غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے کام آسکے گی۔ تاہم سلامتی کونسل نے زور دیا ہے کہ ابھی مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ غزہ میں انسانی ضروریات کے پورا ہونے کی صورت ممکن ہو سکے۔'

خیال رہے اسرائیل نے پچھلے ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ ایریز راہداری کو بھی امدادی سرگرمیوں کے لئے غزہ کے شمال میں کھول دے گا۔ اسرائیل نے یہ اعلان صدر جوبائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان ایک ناخوشگوار قرار دی جانے والی فون کال کے بعد کیا تھا۔ جوبائیڈن نے فون کال کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں اسرائیل فوری اقدامات کرے۔

ایریز سے متعلق اسرائیلی اعلان کے باوجود اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس راہداری سے امدادی ٹرک نہیں گزر سکیں گے۔ کیونکہ اسرائیلی حکومت کو خطرہ ہے کہ اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر جنہیں حکومت کے اندر سے بھی حمایت حاصل ہے وہ یہ امداد غزہ پہنچنے دینے میں رکاوٹ بنیں گے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اسرائیل کوشش کر رہا ہے کہ ایک نئی راہداری کے راستے خوراک غزہ منتقل کرے۔ یہ نئی راہداری شمالی غزہ کے زیر محاصرہ علاقے سے متصل ہو گی۔

سلامتی کونسل کے جاری کردہ بیان میں اس امر پر بھی تشویش کا اعادہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں شہری ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ ایک بڑی انسانی تباہی کا ماحول ہے اور غزہ میں قحط کا بھی خطرہ ہے۔ اسرائیل جنگ کے نتیجے میں غزہ میں اب تک 33545 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ غزہ میں امدادی سرگرمیوں کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے امدادی سامان کی تقسیم ممکن ہو سکے۔ تاہم سلامتی کونسل کے بیان میں امدای کارکنوں کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکتوں کا براہ راست ذکر سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں