ایران کے اسرائیل پر ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی فوج کی نقل و حرکت

امریکی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ایران کا ردِعمل اس ہفتے کے آخر میں متوقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکیوں کی وجہ سے شرقِ اوسط میں امریکی فوجی اثاثہ جات کی تعیناتی اور تیاری کے انداز میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا، ایرانی خطرہ حقیقی ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ایک کال پر صحافیوں کو بتایا، "ہم اب بھی یہاں ایران کی طرف سے ممکنہ خطرے کو حقیقی اور قابلِ عمل سمجھتے ہیں۔" لیکن کربی نے ان انٹیلی جنس معلومات کے بارے میں مزید وضاحت نہیں کی جو امریکہ نے یہ اندازہ لگانے کے لیے جمع کی تھیں اور ساتھ ہی ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے بھی انکار کیا کہ ایرانی حملہ "قریبی" تھا۔

پینٹاگون حکام نے کہا ہے کہ امریکہ خطے میں امریکی افواج کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرتا رہے گا۔

کربی نے کہا کہ واشنگٹن یہ بھی یقینی بنا رہا ہے کہ اسرائیل کے پاس اپنے دفاع کے لیے وہ ضرور ہو جس کی "اسے ضرورت" ہے۔

جہاں تک امریکی فوجی تعیناتی و تیاری کے انداز کا تعلق ہے تو کربی نے کہا کہ امریکہ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تبدیلیاں کی ہیں کہ "ہم مناسب طریقے سے تیار ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "میں یقیناً انکار نہیں کرسکتا کہ ہم نے اس پر ایک نظر ڈالی ہے اور کچھ ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔ میں اس بات کی اصل تفصیلات میں جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ یہ کیسا لگتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں