غزہ کے سرجن غسان ابو ستہ کو جرمنی میں داخلے سے ’زبردستی' روک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حال ہی میں سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف گلاسگو کے ریکٹر منتخب ہونے والے برطانوی-فلسطینی سرجن غسان ابو ستہ کو جمعہ کو ان کی ایکس پوسٹ کے مطابق جرمنی میں داخل ہونے سے "زبردستی روک دیا گیا"۔

سرجن نے کہا کہ انہیں برلن میں ایک کانفرنس سے خطاب میں ان کے کام اور ان دنوں کے بارے میں بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا جو اکتوبر میں اپنے 43 روزہ قیام کے دوران انہوں نے غزہ کے الاہلی اور الشفاء ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں گذارے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں جرمنی میں داخل ہونے سے روکنے کا مطلب گویا "جاری قتلِ عام میں ملک کے ملوث ہونے" میں اضافہ کرنا ہے۔

ابو ستہ نومبر میں غزہ سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے جب اسرائیلی ٹینکوں کی فائرنگ اور الاہلی ہسپتال میں بے ہوشی کی ادویات کی کمی نے ان کے لیے کام کرنا ناممکن بنا دیا جو غزہ شہر کا اس وقت کا آخری مکمل فعال ہسپتال تھا۔ تب سے اسرائیلی بمباری کی وجہ سے محصور انکلیو میں صحت کی نگہداشت کی سہولیات خطرناک حد تک خراب ہوتی جا رہی ہیں۔

غزہ پر اسرائیل کے فوجی حملے نے علاقے میں ہسپتالوں اور صحت کی نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔

نکاراگوا اور جرمنی اس ماہ اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں مقابل آئے اور مناگوا نے کہا کہ برلن کا رویہ اس حوالے سے "قابلِ رحم اور افسوسناک" تھا کہ ایک طرف وہ غزہ کے باشندوں کو امداد اور دوسری طرف اسرائیل کو ہتھیار بھی فراہم کر رہا ہے۔ جبکہ اس معاملے کو جرمنی کے اعلیٰ وکیل نے "انتہائی متعصبانہ" قرار دے کر مسترد کر دیا۔

نکاراگوا جرمنی کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے کٹہرے میں لے آیا ہے جس میں منصفین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ برلن کو اسرائیل کو ہتھیار اور دیگر فوجی امداد فراہم کرنے سے روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔

نکاراگوا کے وکلاء نے استدلال کیا کہ جرمنی اسرائیل کو ہتھیار فراہم کر کے 1948 کے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو ہولوکاسٹ کے تناظر میں قائم کیا گیا تھا۔

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا، اسرائیل منظم طریقے سے غزہ کے صحت کی نگہداشت کے نظام کو تباہ کر رہا ہے۔ تنظیم نے قتلِ عام کے مناظر بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے معاملات کو دنیا کا کوئی ہسپتال سنبھال نہ سکے گا۔

طبی خیراتی ادارے نے کہا کہ بچے ڈرون سے ماری گئی گولیوں کے زخموں کے ساتھ ہسپتالوں میں پہنچ رہے تھے جبکہ بہت سے مریض ملبے تلے دب گئے اور کئی شدید جلے ہوئے زخموں شکار تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں