لاپتہ اسرائیلی نوجوان کا مغربی کنارے میں قتل ہو گیا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک لاپتہ اسرائیلی نوجوان لڑکا ہفتے کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں مردہ پایا گیا جسے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے "سفاکانہ قتل" قرار دیا۔

جمعہ کو 14 سالہ بنجمن اچیمیر کی گمشدگی کی وجہ سے فلسطینی دیہاتوں کی بڑے پیمانے پر تلاشی لی گئی اور حملے کیے گئے۔

نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، "لڑکے کا سفاکانہ قتل ایک سنگین جرم ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج "سفاک قاتلوں اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے تمام لوگوں کے تعاقب میں ہیں۔"

اچیمیر جمعہ کی صبح رام اللہ شہر کے قریب ملاچی ہاشالوم چوکی سے لاپتہ ہو گیا تھا۔

اسرائیلی فوج اور سیکورٹی فورسز نے بتایا کہ اس کی لاش قریب سے ملی تھی۔

لاکھوں اسرائیلی مغربی کنارے کی بستیوں میں رہتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

یہ واقعہ ایسے حالات میں پیش آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کی وجہ سے پہلے ہی کشیدگی بہت زیادہ ہے۔

اچیمیر کی گمشدگی کے بعد اسرائیلی سیکورٹی فورسز اور سیکڑوں رضاکاروں نے ایک تلاشی پارٹی تشکیل دی۔

اے ایف پی کے رپورٹر کے مطابق جمعے کی سہ پہر یہودی آباد کاروں نے جو تلاشی مہم کا حصہ تھے، ملاچی ہاشالوم کے قریب المغیر گاؤں پر چھاپہ مارا۔

فلسطینی وزارت صحت نے جمعہ کو بتایا کہ کم از کم ایک شخص ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔

رات گئے سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ رام اللہ کے قریب ابو فلاح گاؤں میں آباد کاروں کے ایک اور حملے میں پانچ فلسطینی زخمی ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں