اسرائیل پر ایرانی حملے پر مختلف ممالک کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے یہ کہنے کے بعد کہ اس نے ہفتے کی رات اسرائیل پر درجنوں ڈرون اور میزائل داغے، کئی ممالک نے اتوار کو ردِعمل جاری کیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ملک نے مشرقِ وسطیٰ میں خطرناک اثرات سے بچنے کے لیے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

نیز متحدہ عرب امارات نے تنازعات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر بھی زور دیا۔

یکم اپریل کو دمشق میں ایران کے سفارت خانے کے احاطے پر مشتبہ اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں ایران نے راتوں رات اسرائیل پر میزائل اور ڈرون داغے جس سے وسیع تر علاقائی تنازعے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

روس نے کہا وہ ان حملوں پر انتہائی تشویش کا شکار تھا اور اس نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا لیکن کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ کے حل ہونے تک کشیدگی برقرار رہے گی۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی حملوں پر ایک بیان میں کہا، "ہم خطے میں ایک اور خطرناک کشیدگی پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس میں شامل تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

روس نے نوٹ کیا کہ تہران نے کہا تھا کہ یہ حملہ اپنے حقِ دفاع میں دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل کے حملے کے بعد کیا گیا تھا جس کی ماسکو نے مذمت کی تھی۔

ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے روس نے کہا کہ مغرب نے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کا جواب دینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کوششوں کو روک دیا تھا۔

وزارت نے کہا، "ہم نے بارہا خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بے شمار اور بنیادی طور پر فلسطین-اسرائیل تنازعہ والے علاقے میں حل نہ ہونے والے بحران جو اکثر غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیز کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں گے۔"

کریملن نے ابھی تک عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

لیکن سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ جو بائیڈن کے دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے کے امکانات کو مزید خراب کر دے گی۔

میدویدیف نے ٹیلی گرام پر کہا، "امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑی جنگ نہیں چاہتا۔ غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں نے انتخابات میں بائیڈن کے امکانات کو مزید خراب کر دیا ہے اور اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اضافی غیر یقینی کا باعث بنے گی۔"

جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیرباک نے اتوار کو کہا اسرائیل نے ثابت کیا ہے کہ وہ مضبوط ہے اور مضبوط اتحادیوں کے ساتھ مل کر راتوں رات ایرانی حملے کو پسپا کر کے اپنا دفاع کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "ایران اپنے جارحانہ رویے کی وجہ سے تنہا ہے اور اس روئیے سے وہ پورے خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اور اسرائیل کی صلاحیتوں نے دکھایا ہے کہ اسرائیل مضبوط ہے، وہ اپنی حفاظت کر سکتا ہے۔"

بیرباک نے ایران پر زور دیا کہ وہ پراکسی کے ذریعے مزید حملوں کو ترک کر دے کیونکہ علاقائی کشیدگی کے ناقابلِ حساب نتائج ہوں گے۔

اپنے طور پر نیٹو نے اسرائیل پر ایران کے راتوں رات حملے کو علاقائی بدامنی میں "اضافہ" قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے پر زور دیا۔

ترجمان فرح دخل اللہ نے اتوار کو کہا، "ہم ایران کی راتوں رات بڑھتی ہوئی کشیدگی کی مذمت کرتے ہیں، تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور پیش رفت کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع قابو سے باہر نہ ہو۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں