ایران اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا چاہتا تھا: سینئر امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سینئر امریکی حکام نے اتوار کو کہا کہ ایران نے اسرائیل پر اپنے بے مثال حملے کے ذریعے "نمایاں نقصان اور ہلاکتیں" کرنے کی کوشش کی۔

حکام نے حملے کے بارے میں تازہ ترین امریکی جائزہ فراہم کرنے کے لیے ایک کال کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ اس حملے میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرون سمیت 300 گولہ بارود کی فائرنگ شامل تھی۔

انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ اسرائیل، امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے درمیان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے داغے گئے 99 فیصد میزائلوں اور ڈرونز کو روک دیا گیا۔

نیز اہلکار نے کہا کہ حملے سے اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کو "عملی اور حقیقی طور پر" کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

اہلکار نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے حملے سے 10 دن قبل اسرائیل کے دفاع کے لیے اقدامات کا حکم دیا تھا۔ اور مزید کہا کہ غزہ کی جنگ پر اختلافات کے باوجود واشنگٹن اسرائیل کی حمایت میں کھڑا ہے۔

ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے ایرانی حملے کو ایرانی سرزمین سے اسرائیل پر پہلی بار ہونے والا براہِ راست حملہ قرار دیا۔ اہلکار نے بتایا کہ حملوں کا آغاز متعدد ممالک سے ہوا جن میں ایران، عراق، شام اور یمن شامل ہیں جو ہمسایہ عرب ممالک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

ایک سینئر امریکی فوجی اہلکار کے مطابق حملے کے دوران 100 سے زیادہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، 30 سے زیادہ زمینی حملہ کرنے والے کروز میزائل اور 150 سے زیادہ یک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرون اسرائیل کی طرف داغے گئے تھے۔

سینئر فوجی اہلکار نے بتایا کہ مشرقی بحیرۂ روم میں کارروائی کرنے والے یو ایس ایس آرلی برک اور یو ایس ایس کارنی نے حملے کے دوران چار سے چھ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روکا اور تباہ کر دیا۔

حکام نے کہا کہ رپورٹس کے مطابق تہران نے واشنگٹن کو 72 گھنٹے کا نوٹس دیا جبکہ اس کے برعکس ایرانی حکام نے امریکا کو پیشگی وارننگ نہیں دی۔

البتہ انہوں نے کہا کہ جس وقت حملہ جاری تھا تو سوئس ذرائع سے ایک پیغام پہنچایا گیا جس کے مندرجات ظاہر کرنے سے گریز کیا گیا۔

ممکنہ اسرائیلی ردِعمل کے بارے میں انتظامیہ کے سینئر اہلکار نے اسرائیل کے حقِ دفاع کی تصدیق کی۔ اہلکار نے مزید کہا، "لیکن نہیں، ہم اپنے بارے میں ایسی چیز [جوابی حملہ] میں حصہ لینے کا تصور نہیں کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں