ایران کے خلاف جوابی کارروائی نہ کی جائے: ڈیوڈ کیمرون کا اسرائیل پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایران کے ڈرون اور میزائل حملے کے بعد جوابی کارروائی نہ کرے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو "دماغ کے ساتھ ساتھ دل سے سوچنا چاہیے" کیونکہ تہران کا حملہ تقریباً مکمل طور پر ناکام رہا تھا۔

ایران کی طرف سے 300 سے زیادہ میزائلوں اور ڈرونز کے حملے نے اسرائیل کو صرف معمولی نقصان پہنچایا کیونکہ زیادہ تر کو اس کے آئرن ڈوم دفاعی نظام اور امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اردن کی مدد نے مار گرایا تھا۔ یہ یکم اپریل کو شام میں ایران کے سفارت خانے کے احاطے پر مشتبہ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ہوا۔

کیمرون نے بی بی سی ٹی وی کو بتایا، "میرے خیال میں وہ بالکل درست سوچ رہے ہیں کہ انھیں جواب دینا چاہیے کیونکہ ان پر حملہ کیا گیا ہے لیکن ہم بطورِ دوست ان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ دماغ کے ساتھ ساتھ دل سے سوچیں، ہوشیار اور مضبوط ہوں۔"

انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل پر زور دے رہے تھے کہ وہ شرقِ اوسط میں کشیدگی میں اضافہ نہ کرے۔

انہوں نے اسکائی نیوز کو بتایا، "کئی طریقوں سے یہ ایران کے لیے دوہری شکست ہے۔ یہ حملہ تقریباً مکمل ناکامی تھی اور انہوں نے دنیا کے سامنے آشکار کر دیا کہ وہ خطے میں منفی اثر و رسوخ کے حامل ہیں جو ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس لیے ہماری امید ہے کہ جوابی ردِعمل نہیں ہوگا۔"

کیمرون نے کہا کہ برطانیہ ایران پر مزید پابندیاں لگانے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ کام بھی کرے گا اور انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اپنی توجہ غزہ جنگ میں ایران کی حمایت یافتہ حماس کے ساتھ جنگ بندی پر رضامندی پر واپس مرکوز کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں