بجلی کی تاروں میں پھنسے ڈرون کی حقیقت کیا ہے، کیا یہ ایرانی ڈرون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن میں ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک ڈرون کو بجلی کی تاروں میں پھنسے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو پوسٹ کرنے والے بعض صارفین کا دعویٰ ہےکہ یہ ایک ایرانی ڈرون ہے جو دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں 14اپریل کو کیے گئے حملے کے دوران تہران سے لانچ کیاگیا تھا۔

اردن کے حکام نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے "اڑنے والی اشیاء" کو روک لیا تھا جو کہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کے دوران ہفتہ-اتوار کی درمیانی شب اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ، بہت سی تصاویر اور ویڈیوز اردن کی سرزمین پر گرنے والے پروجیکٹائل کی سامنے آئیں تاہم ان سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کے ایک گروپ نے تصاویر کے ساتھ ایک ویڈیو کلپ شائع کیا جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ ایک ایرانی ڈرون تھا جو حملے کے دوران اردن عراق سرحد پر بجلی کی تاروں میں پھنس گیا تھا، لیکن درحقیقت یہ ویڈیو اور دعویٰ سراسر غلط ہے، کیونکہ یہ ویڈیو دو ماہ قبل سامنے آئی تھی جس میں ایک ڈرون کو بجلی کی تاروں میں پھنسے دیکھا جا سکتا ہے۔

جھوٹی ویڈیو کو بہت سے شیئر کیا گیا اور اسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے تاہم اس کا اردن یا عراق سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ تحقیقات اور چھان بین کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ گذشتہ فروری میں سامنے آنے والی ویڈیو ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں