سفارتی مشن یا ایران نواز ملیشیا؟ تل ابیب تہران کو کیسے جواب دے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ ہفتے کے روز اسرائیل پر ڈرون اور میزائلوں سے ایرانی حملوں کے بعد تہران اور تل ابیب کے درمیان باہمی خطرات کے درمیان پوری دنیا ممکنہ اسرائیلی ردعمل کا انتظار کر رہی ہے۔

جب کہ اسرائیل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا ردعمل واضح اور فیصلہ کن ہوگا۔ اس حوالے سے تجزیہ نگار مختلف آراء پیش کررہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل وسیع تر جنگ سے گریز کرتے ہوئےتہران کو جواب دے گا۔ کچھ اسرائیل کے جوابی حملے کی تاریخی اور ممکنہ مقامات پر بھی بات کرتے ہیں۔

اسرائیلی ردعمل کے ممکنہ منظرنامے

امریکن نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کی چیف ریسرچر امریکی تجزیہ کار کیرولین روز نے تجویز پیش کی کہ ایرانی حملوں پر اسرائیلی ردعمل جس میں کوئی انسانی جانی نقصان نہیں ہوا ایران کی جانب سے سینکڑوں میزائلوں اور ڈرونز کے لانچنگ کے باوجود تاخیر کا شکار ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "غزہ جنگ کے دائرہ کار میں توسیع نہ کرنے کے مقصد سے امریکی دباؤ کے نتیجے میں ان بے مثال حملوں پر اسرائیلی ردعمل میں تاخیر ہو سکتی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ایک اور وجہ ہے جو اس جواب میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔ تل ابیب شاید رفح میں فیلڈ کی پیشرفت پر توجہ مرکوز کرنے کے ارادے سے آنے والے ہفتوں کے لیے اپنے ردعمل میں تاخیر کر سکتا ہے‘‘۔

جہاں تک اسرائیل کے ممکنہ اہداف کی بات ہے تو ان کا کہنا ہے کہ "اسرائیل بیرون ملک ایرانی مشنوں، یا شام، لبنان اور دیگر ممالک میں کام کرنے والے ایرانی مشیروں پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے جہاں تہران کے لیے پراکسی ملیشیا سرگرم ہیں"۔

ایرانی امور کے ماہر محقق وجدان عبدالرحمن نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ "اسرائیلی ردعمل کئی وجوہات کی بناء پر ناگزیر ہے۔ اسرائیلی وار روم نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ بنجمن نیتن یاہو کی حکومت ایران کے اندر کارروائی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسرائیل اس سے قبل تہران کی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رہا ہے۔

'اچانک حملہ'

وجدان نے مزید کہا کہ "ایرانی انقلاب کے بعد تہران نے پہلی بار اسرائیلی سرزمین کو براہ راست نشانہ بنایا، حالانکہ تل ابیب نے ایران کے اندر نشانہ نہیں بنایا تھا۔اس لیے اسرائیل کے براہ راست ایران کے اندر اسی طرح کے حملے کرنے کا امکان بہت حقیقی اور ممکن ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’متوقع اسرائیلی حملہ عن قریب، اچانک، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کے استعمال سے ہو سکتا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "نیتن یاہو نے اپنے بیانات کے ذریعے ایران کے خلاف متوقع حملوں سے پہلے ہی اس کی ترویج شروع کردی ہے۔ فی الحال ایک نفسیاتی جنگ جاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حملے نفسیاتی جنگ کے بعد ہوں گے اور اس لیے ردعمل دنوں اور ہفتوں میں سامنے آ سکتا ہے‘‘۔

متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل محدود بنیادوں پر ایران کے اندر فوجی مقامات کو نشانہ بنائے گا۔ سائبر حملے بھی ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق، شام اور لبنان سمیت متعدد عرب ممالک میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کو نشانہ بنانے کے ذریعے بھی تل ابیب جواب دے سکتا ہے۔

کل سوموار کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ان کا ملک ایران کو دانشمندی اور سوچ سمجھ کر جواب دے گا لیکن تہران کو تناؤ کا سامنا کرنا ہوگا تل ابیب نے کیا۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ "ایرانی جارحیت جس سے عالمی امن کو خطرہ ہے" کے مقابلے میں "متحد رہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں