غزہ جنگ نےاسرائیلی لیڈروں میں پھوٹ ڈال دی،نیتن یاھو کے مقربین میں اعتماد کا فقدان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ اپنے ساتویں مہینے میں داخل ہونے کے بعد اسرائیلی لیڈرشپ کے درمیان اختلافات مزید ابھر کر سامنے آنے لگے ہیں۔ اسرائیلی رائے عامہ اس بات پر گہرا اختلاف ہے کہ اسرائیلی لیڈر کس چیز پر "فتح حاصل کرنا" کہتے ہیں۔ یہی بات غزہ کی پٹی کے تین اعلیٰ حکام پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ غزہ جنگ کےحوالے سے تشکیل دی گئی ایمرجنسی وار کیبٹنٹ کے تین اہم ارکان وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو، وزیر دفاع’یو آو‘ گیلنٹ اور بینی گینٹز کے درمیان اختلافات کافی حد تک بڑھ چکے ہیں اور عام ہو چکے ہیں۔

وار کیبنٹ لیڈروں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں

حماس سے لڑنے کے بارے میں طویل عرصے سے جاری رنجش نے اسرائیل کے جنگ کے وقت کے فیصلہ سازوں کے درمیان تعلقات کو کشیدہ کر دیا ہے۔ یعنی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور ’آئی ڈی ایف‘ کے سابق سربراہ بینی گینٹز کے درمیان سخت اختلافات ہیں اور وہ غزہ جنگ جیسے سب سے بڑے مسئلے پرمتفق ہیں۔

آج انہیں ملک کو درپیش سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک کا کوئی حل نکالنا ہوگا۔ ان کے لیے یہ ایک بڑا سوال ہےکہ اسرائیل کی سرزمین پر ایران کے پہلے براہ راست حملے کا جواب کیسے دیا جائے؟۔

ان کا اختلاف غزہ جنگ اور ایران سےنمٹنے کے معاملے پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا غزہ کا تنازع ایران کے ساتھ ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائے گا جو مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی ترتیب کو بدل دے گا اور اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ کئی دہائیوں کے تعلقات کوایک نئی شکل دے گا۔

سابق اسرائیلی جنرل اور قومی سلامتی کے مشیر جیورا ایلانڈ کا خیال تھا کہ ان تینوں لیڈروں کے درمیان اعتماد کی کمی بہت واضح اور انتہائی اہم ہو گئی ہے۔

ملک کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم کے طور پر نیتن یاہو غزہ کی جنگ کو خود ہی ہدایت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ گیلنٹ اور گینٹز کو بڑے پیمانے پر نیتن یاہو کو فیصلوں سے الگ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ایک دہائی قبل حماس کے خلاف اسرائیل کی آخری بڑی جنگ کی قیادت کرنے والے جنرل گینٹز نے اس سے قبل نیتن یاہو کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے اس ماہ کے شروع میں ستمبر میں ابتدائی انتخابات کے لیے کال کی جب دسیوں ہزار لوگوں نے وزیر اعظم کے جنگ سے نمٹنے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ گینٹز نیتن یاہو کی زیرقیادت حکومت میں نیتن یاھو کے کردار سےمایوس ہیں۔

ہفتے کے روز ایران کی طرف سے کیے گئے حملے کے بعد سے وزراء کونسل کے تینوں ارکان روزانہ ملاقات کر رہے ہیں لیکن انہوں نے تفصیلات کو خفیہ رکھا ہے۔ خاص طور پر چونکہ انہیں ایک ایسا جواب تیار کرنے کا چیلنج درپیش ہے جو ان کے مقاصد کو متوازن رکھتا ہو۔ ایران کو روکنا، علاقائی جنگ سے گریز کرنا،امریکہ کو ساتھ شامل کرنا ہے۔ چونکہ صدر بائیڈن نے اسرائیلیوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ردعمل میں محتاط رہیں اور ساتھ ہی کہا کہ امریکہ ایران کے اندر اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس لیے اسرائیل کی جنگی کونسل کو امریکی حکومت کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

اپنی طرف سے، تل ابیب میں واقع انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایک سینئر محقق راز زیمیت کا کہنا ہے کہ غلط حساب کتاب کا خطرہ بہت زیادہ ہے، کیونکہ اسرائیل ایران کے ساتھ تنازعے میں ایک انتہائی خطرناک مرحلے کے آغاز میں ہے۔ ایسے میں اسرائیل کی طرف سے کی گئی جوابی کارروائی کسی نئے جنگی محاذ کی طرف لے جا سکتی ہے۔اس سے قبل بھی نیتن یاھو کے بہت سے فیصلوں میں بینی گینٹز اور یو آو گیلنٹ کو شامل نہیں کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں