کیا اسرائیل رواں ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کرسکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی جانب سے گذشتہ ہفتے کی رات اسرائیل پر حملے اور تل ابیب کی طرف سے جوابی کارروائی کے عزم کے بعد اس حوالے سے نئی معلومات منظر عام پر آئی ہیں۔

چار امریکی عہدیداروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ممکنہ اسرائیلی ردعمل ہفتے کے آخر میں پیش آئے گا اور اس کا دائرہ محدود ہوگا۔

’این بی سی نیوز‘ نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ان میں ممکنہ طور پر ایرانی فوجی دستوں اور خطے میں تہران کی حمایت یافتہ پراکسیوں کے خلاف حملے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

آپشن بدل سکتے ہیں

انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ امریکی انتظامیہ کو اسرائیل کے حتمی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ جواب کیسے دیا جائےگا۔ اسرائیلی حکومت کے سامنے ایران پرحملے سے متعلق آپشنز تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی ردعمل کب آئے گا، لیکن یہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

یہ امریکی اندازہ بہ ظاہر امریکی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت پر مبنی تھا جو ایران کی جانب سے گذشتہ ہفتے کی شام اسرائیل پر 300 سے زیادہ ڈرون اور میزائل داغے جانے سے پہلے ہوئی تھی۔

امریکی حکام نے کہا کہ جب اسرائیل گذشتہ ہفتے ممکنہ ایرانی حملے کی تیاری کر رہا تھا اسرائیلی حکام نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو ممکنہ ردعمل کے آپشنز سے آگاہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر رہ نماؤں نے گذشتہ دنوں اسرائیل کی جانب سے ایرانی حملے کا جواب دینے سے گریز اور تحمل سے کام لینے پر زور دیا تھا۔

کچھ امریکی حکام نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن نے تل ابیب کو مطلع کیا کہ وہ تہران کے خلاف اس کے اقدام میں حصہ نہیں لے گا۔

تاہم، سیاسی اور عسکری قیادت کے سب سے اوپر کے تمام اسرائیلی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے پاس ایران کے حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں