مشرق وسطیٰ

اسرائیل کے ساتھ کوارڈی نیش میں بہتری، تاہم غزہ میں امدادی چیلنجز برقرار: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے ایک سینئر امدادی اہلکار نے منگل کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ غزہ کی پٹی میں قحط روکنے کے لیے بدستور برسرِ پیکار ہے اور جبکہ اسرائیل کے ساتھ رابطوں میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم اس کے باوجود علاقے میں امداد کی ترسیل میں تاحال مشکلات کا سامنا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں انسانی امور سے متعلق کوارڈی نیشن کے لیے اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سربراہ آندرے ڈی ڈومینیکو نے کہا کہ غزہ کے اندر امداد کی ترسیل میں تلاشی کی چوکیوں پر تاخیر کا سامنا بہت اہم تھا اور یہ کہ گذشتہ ہفتے شمالی غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی 41 فیصد درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

ڈی ڈومینیکو نے نامہ نگاروں کو بتایا، "ہم اس مشکل سے نبرد آزما ہیں جہاں ہم ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے یا دو قدم آگے، ایک قدم پیچھے ہوتے ہیں جو ہمیں بنیادی طور پر ہمیشہ ایک ہی مقام پر چھوڑ دیتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمیں ملنے والے ہر نئے موقع کے ساتھ اس سے نمٹنے کے لیے ایک اور چیلنج ملے گا۔ اس وجہ سے ہمارے لیے اس مقام تک پہنچنا واقعی، واقعی مشکل ہے جہاں ہم پہنچنا چاہتے ہیں۔"

اقوامِ متحدہ نے طویل عرصے سے غزہ میں امداد پہنچانے اور اسے تقسیم کرنے میں رکاوٹوں کی شکایت کی ہے۔ لیکن یکم اپریل کو اسرائیلی فضائی حملوں میں ورلڈ سینٹرل کچن کے امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے بعد 2.3 ملین افراد کے غزہ کی پٹی میں انسانی بحران پر عالمی غم و غصے میں اضافہ ہوا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات کے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے عمل نہ کیا تو اس کے لیے امریکہ کی حمایت پر شرائط رکھی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے شمالی غزہ میں ایریز گذرگاہ کو دوبارہ کھولنے اور جنوبی اسرائیل میں اشدود بندرگاہ کے عارضی استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

ڈی ڈومینیکو نے کہا، "غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے" اور مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ نہیں جانتا تھا کہ اسرائیل نے شمالی غزہ میں کتنی نجی امداد کی ترسیل کی اجازت دی تھی۔ لیکن انہوں نے کہا، غزہ کے اندر بھی امداد کی رسائی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، "مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف کھانے کی بات نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ قحط بہت زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ یہ صرف آٹا لانے سے کہیں زیادہ بڑی بات ہے۔ پانی، صفائی ستھرائی اور صحت قحط کو روکنے کے لیے بنیادی ضروریات ہیں۔"

امریکی محکمۂ خارجہ نے منگل کو کہا، امریکی حکام نے غزہ پہنچنے والی امداد کی مقدار میں مسلسل پیش رفت نوٹ کی ہے لیکن یہ تاحال مطلوبہ سطح پر نہیں ہے اور واشنگٹن اس کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں