برطانیہ کی جانب سے مغربی کنارے میں اسرائیلی نوجوان کے قتل کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے اسرائیلی نوجوان بنیامین اچیمیئر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیامین کی موت کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں "تشدد کی حیران کن سطح" باعث پریشانی ہے۔

اس امر کا اظہار منگل کے روز برطانوی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا، "یہ ہلاکتیں اور اس کے بعد کی کارروائیاں ایک نازک وقت میں مقبوضہ مغربی کنارے اور وسیع علاقے میں تشدد میں اضافہ کر رہی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ اسرائیلی حکام پرامن حالات بحال کریں اور تمام اموات کی فوری اور شفاف تحقیقات کروائیں۔"

اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کشیدگی مغربی کنارے میں ایک 14 سالہ اسرائیلی کی گمشدگی کے بعد شروع ہوئی۔ اس کی لاش ہفتے کے روز ملی جس کے بارے میں اسرائیل نے کہا کہ یہ ایک مشتبہ دہشت گردانہ حملہ تھا۔

طبی ماہرین اور شہریوں نے بتایا کہ ہفتے کے آخر میں سینکڑوں مسلح یہودی آباد کاروں نے رام اللہ شہر کے قریب فلسطینی دیہات پر یلغار کر دی، سڑکیں بلاک کیں، گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور شہریوں پر فائرنگ کی۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے بتایا کہ پیر کے روز اسرائیلی افواج نے نابلس پر چھاپہ مار کر 17 سالہ یزان اشتیاح کو ہلاک اور تین دیگر افراد کو زخمی کر دیا۔

اسرائیل کی بارڈر پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ خفیہ سرحدی پولیس اہلکاروں نے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ مل کر ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے نابلس میں کارروائی شروع کی۔

ترجمان نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی جس میں ایک شخص نے فوجیوں پر دھماکہ خیز مواد پھینکا اور اسے خفیہ یونٹ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں