تہران کو سزا یا رفح پر حملہ: نتین یاہو دونوں میں کونسا کڑوا گھونٹ پئیں گے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے ایران کے غیر معمولی حملے کا جواب دینے اور حماس کے خلاف اپنی جنگ میں غزہ کے گنجان آباد علاقے رفح میں فوجی بھیجنے کا عزم ظاہر کیا ہے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ وہ بیک وقت دونوں مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو دونوں محاذوں پر آگے بڑھنے کے لیے پرعزم دکھائی دئیے ہیں لیکن انھوں نے دونوں محاذوں کے لئے کوئی ٹائم لائن پیش نہیں کی ہے۔

انہیں ممکنہ طور پر تہران کے ڈرون اور میزائل حملے کے بعد اپنے سب سے اہم اتحادی امریکہ کی جانب سے تحمل سے کام لینے کی اپیلوں کے ساتھ ساتھ محصور غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے مطالبوں کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔

اسرائیل کتنا انتظار کرے؟

تجزیہ کاروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی فوج، جو پہلے ہی غزہ میں حماس اور خطے میں دوسرے مقامات پر ایران کے حمایت یافتہ گروپس سے لڑ رہی ہے، ایران کے خلاف فعال لڑائی برقرار نہیں رکھ سکتی۔

سکیورٹی سے متعلق مشاورتی ادارے،سیکورٹی کنسلٹنسی لی بیک انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر مائیکل ہورووٹز نے کہا کہ "اسرائیل بیک وقت میں رفح میں جنگ اور ایران کے خلاف جوابی کارروائی نہیں کر سکے گا۔"انہوں نے کہا کہ کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔

ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل محمد رضا اشتیانی تہران میں میزائل کے قریب چہل قدمی کر رہے ہیں (رائٹرز)
ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل محمد رضا اشتیانی تہران میں میزائل کے قریب چہل قدمی کر رہے ہیں (رائٹرز)

ہفتے کے روز ایرانی حملے کے بعد سے، اسرائیلی جنگی کابینہ کی یکے بعد دیگرے میٹنگز کے بعد جو عوامی بیانات سامنے آئے ہیں ان میں اسرائیل کے منصوبوں کے بارےمیں بہت کم وضاحت کی گئی ہے ۔

اس کے بجائے، ان میٹنگز نے زیادہ تر کابینہ کےاندر شدید اختلافات کو اجاگر کیا۔کچھ جوشیلےوزراء نے تہران کو سزا دینے کےلیے انتقامی کارروائی اور رفح پر فوری حملے کا مطالبہ کیا،جبکہ دوسرے اسرائیل کےلیے انتظار کو ترجیح دیتے ہیں۔

سفارتی خطرات

اگرچہ بین الاقوامی برادری نے غزہ میں اسرائیل کی تباہ کن فوجی کارروائیوں پر تنقید کی ہے، تاہم ایران کی جانب سے سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں کے حملے کےنتیجے میں اسرائیل کےلیے حمایت ظاہر ہوئی ہے ۔

رفح میں کوئی بھی زمینی کارروائی اس طرح کے سفارتی فائدے کو باآسانی زائل کر سکتی ہے، لیکن ہورووٹز نے دلیل دی کہ اسرائیل غزہ میں کارروائی کے لیے عالمی یکجہتی کے اس لمحے سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اتحادی رفح پر کسی حملے پر آنکھیں بند بھی کر سکتے ہیں اور اس کے بدلے میں یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ "اسرائیل ایران کے خلاف جوابی کارروائی نہ کرے " تاہم انہوں نے مزید کہا کہ یہ منظر نامہ خاصاناممکن دکھائی دیتا ہے۔ "

منقسم اسرائیلی رائے عامہ

یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے منگل کو جاری کیے گئے ایک سروے میں شامل افراد میں سے، 48 فیصد نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر ایران کے خلاف انتقامی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 52 فیصد اس کے خلاف تھے۔

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ رفح حملے کی حمایت، اسرائیل۔امریکہ تعلقات کے لیے خطرے تک کے تناظر میں ، 44 فیصد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں