غزہ جنگ کے چند ماہ میں سات ہزار اسرائیلی فوجی ذہنی اور نفسیاتی مریض بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں فوجی کارروائیوں،شمالی محاذ پر کشیدگی اور ایران کے ساتھ تناؤ نے اسرائیلی فوج کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

7000 فوجی ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار

اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ 7 اکتوبرسے اب تک ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا فوجیوں کی تعداد 7000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی چینل 13 کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے بحالی ونگ کو 7 اکتوبر سے تقریباً 7000 زخمی اور ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد کے کیس موصول ہوئے ہیں۔

یہ وزارت دفاع کے بحالی ڈویژن کی طرف سے اسرائیل میں زخمیوں، نفسیاتی طور پر متاثر ہونے اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کے متاثرین کی تعداد کے اعداد و شمار شائع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد بحالی ونگ کو 7,209 زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ بحالی وارڈ میں پہنچنے والے زخمیوں میں سے تقریباً 30 فیصد جن کی تعداد 2,111 ذہنی امراض کے شکار افراد شامل ہیں۔

خودکشی کے رجحانات

گذشتہ سال کے آخر میں اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے انکشاف کیا کہ فوج کے بحالی کے محکمے نے نفسیاتی امراض میں مبتلا فوجیوں کا جائزہ لینے کے لیے نفسیاتی ماہرین اور نرسوں کی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جو خودکشی کے رجحانات سے نمٹنے کے لیے کام کررہی ہیں۔

نیا پروگرام گذشتہ فروری میں نافذ ہوا، جس میں غزہ پر اسرائیل کی سابقہ جنگوں سے علاج کروانے والے 13,500 سے زائد فوجی شامل ہیں۔

محکمہ بحالی میں سوشل سروس یونٹ کے سربراہ نوا رفا نے اس وقت کہا تھا کہ کچھ فوجی جن کی نفسیاتی حالت خراب ہو چکی تھی وہ اپنے سپروائزر یا خاندان کے ممبران کو فون کر کے امداد کا مطالبہ کررہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں