"اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت سے فلسطینیوں کوریاست کا درجہ حاصل کرنے میں مددنہیں ملےگی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس-گرین فیلڈ نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں اقوامِ متحدہ کی ایسی قرارداد نظر نہیں آئی جس میں فلسطینی اتھارٹی کو اقوامِ متحدہ کا مکمل رکن بننے کی سفارش کی گئی ہو اور اس سے اسرائیل-فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل میں مدد ملے۔

تھامس-گرین فیلڈ نے یہ تبصرہ سیول میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اس سوال پر کیا کہ آیا امریکہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کی درخواست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔

تھامس-گرین فیلڈ نے کہا کہ "ہمارا یہ خیال نہیں ہے کہ سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کرنے سے ہمیں لازمی طور پر ایسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں ہم دو ریاستی حل کو آگے بڑھتا دیکھ سکیں۔"

انہوں نے کہا، امریکی صدر جو بائیڈن نے واضح طور پر کہا تھا کہ واشنگٹن دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور اسے جلد از جلد نافذ کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

سفارت کاروں نے کہا، فلسطینی اتھارٹی سے توقع ہے کہ وہ جمعرات کو ایک مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کے لیے 15 رکنی سلامتی کونسل پر زور دے گی جس میں اسے عالمی ادارے کا مکمل رکن بننے کی سفارش کی گئی ہے۔ سلامتی کونسل کے رکن الجزائر نے منگل کو تادیر ایک مسودے کا متن جاری کیا۔

منگل کو درخواست پر غور کرنے والی کمیٹی کی پیش کردہ اور رائٹرز کی ملاحظہ کردہ رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذکورہ کمیٹی "ایک متفقہ سفارش کرنے سے قاصر تھی" کہ آیا یہ مسودہ قرارداد معیار پر پورا اترتا تھا یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ کا مکمل رکن بننے کے لیے ایک درخواست کی سلامتی کونسل میں - جہاں امریکہ ویٹو کر سکتا ہے - اور پھر 193 رکنی جنرل اسمبلی میں سے کم از کم دو تہائی ارکان کی طرف سے منظوری ضروری ہوتی ہے۔

1990 کے عشرے کے اوائل میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان اوسلو معاہدے پر دستخط کے بعد سے فلسطینی ریاست کے حصول کے لیے بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔

رکاوٹوں میں سے ایک اسرائیلی بستیوں کی توسیع ہے اور اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتری۔

صدر محمود عباس کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں محدود خود مختاری کا استعمال کرتی ہے اور اوسلو معاہدے میں اسرائیل کی شراکت دار ہے۔ حماس نے 2007 میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتھارٹی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں