سعودی اور اماراتی قیادت کا مشرق وسطیٰ تنازع میں ’صبر کا مظاہرہ‘کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے جلو میں ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں پر زیادہ سے زیادہ صبر کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ اسرائیل پر ایران کے جوابی حملے کے بعد ہوا ہے۔ یاد رہے یکم اپریل کو اسرائیل نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔

یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’وام‘‘نے بدھ کے روز اپنے نشریئے میں بتایا کہ شیخ محمد اور سعودی ولی عہد نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کا جائزہ لیا جس نے خطے کی سلامتی اور استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے تمام متعلقہ فریقوں پر ’صبر سے کام لینے‘‘ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطہ اور اس کے عوام سرحدی تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال سے محفوظ رہ سکیں۔

دونوں رہنماؤں نے غزہ کی پٹی میں بگڑتے ہوئی انسانی بحران کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے فوری سیز فائر کے لئے کوششوں کو تیز کرنے اور نہتے شہریوں کو عالمی جنگی قوانین کے تحت مکمل تحفظ فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ غزہ کے عوام کو پائیدار طریقے سے انسانی امداد کی فراہمی بلا روک جاری رکھی جا سکے۔

فون کال کے دوران شیخ محمد اور سعودی ولی عہد نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ دونوں ملکوں کے عوام کی بہتری کی خاطر باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں