اسرائیل کو ایران پر حملے میں پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا: ایرانی فورس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور اسرائیل کی ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیوں اور دونوں ملکوں کی غیر معمولی فوجی تیاریاں دیکھتے ہوئے ایران نے اپنی بحری فوج کے ذریعے تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘نے بدھ کے روز امیر البحر شہرام ایرانی کا بیان نشر کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے بحیرہ احمر میں سفر کرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے ایرانی بحری فورس تعنیات کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا ’’کہ خلیج عدن سے نہر سویز تک ہم اپنے اور دوسرے ملکوں کے تجارتی جہازوں کو حفاظتی کور فراہم کریں گے۔‘‘۔ ’’اس مقصد کے لیے فی الوقت جماران نامی ڈسٹرائر خلیج عدن میں موجود رہے گا، اور اپنی ڈیوٹی بحیرہ احمر تک ادا کرے گا۔‘‘

اسرائیل پچھتائے گا

ادھر ایرانی بری فوج کے سربراہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے ’’کہ ایرانی سرزمین کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے والوں سے کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ بریگیڈئر جنرل کیومرث حیدری نے کہا ’’صہیونی ریاست جان لے اگر اس نے غلطی کا ارتکاب کیا تو اسے کچلنے والے ردعمل کا سامنا کرنا ہو گا، جس پر اسرائیل کو سوائے پچھتاوے کچھ حاصل نہ ہو گا۔‘‘

ایسوسی ایٹیڈ پریس فائل فوٹو بحیرہ احمر
ایسوسی ایٹیڈ پریس فائل فوٹو بحیرہ احمر

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب اسرائیل اپنی سرزمین پر ہفتے کی رات ہونے والے ایرانی حملے کا جواب دینے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ یاد رہے ایران نے اپنی سرزمین سے اسرائیل پر پہلی مرتبہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے شام میں تہران کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے کا بدلہ لینے کی خاطر کیا تھا۔ اس کارروائی میں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے اہم مشیر ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیلی بحری جہاز پر قبضہ

واضح رہے کہ اسرائیل پر براہ راست حملے سے پانچ دن پہلے سپاہ پاسداران انقلاب نے اسرائیلی بزنس مین کا ملکیتی بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت قبضے میں لے لیا تھا جسے بعد ازاں ایران کی سمندری حدود کی جانب لے جایا گیا۔

12 اپریل سے اب تک اسرائیل کی جنگی کابینہ کے کئی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جن میں تہران کو جواب دینے سے متعلق امور پر گرما گرم بحث ہوتی رہی، ہر اجلاس کے بعد سامنے آنے والے اعلامیہ میں ’’اسرائیلی انتقام کو ناگزیر قرار دیا جاتا رہا ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں