اسرائیلی حملہ : ہزاروں منجمد 'آئی وی ایف' ایمبریو تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ماہ دسمبر میں ایمبریولوجی کلینک پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مائع نائٹروجن ضائع ہوگئی۔ مائع نائٹروجن کے پانچ ٹینک کلینک میں موجود تھے۔ اسرائیلی بمباری کے اس واقعہ کے اثرات بہت دور رس ہیں۔

اسرائیلی بمباری کی وجہ سے مائع نائٹروجن بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ جبکہ نائٹروجن ٹینکوں کا درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے 4000 ایمبریوز اور 1000 'ان فرٹیلائزڈ ایگ' تباہ ہوگئے۔ اسرائیلی بمباری کا یہ واقعہ الباسمہ آئی وی ایف مرکز میں پیش آیا۔

نائٹروجن ٹینکوں میں موجود جنین فلسطینی جوڑوں کے لیے آخری امید تھی۔ جو اب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں دم توڑ گئی ہے۔

73 سالہ ماہر امراض نسواں ابہاء الدین غالیینی نے کہا '5000 ہزار ممکنہ زندگیوں کا نقصان والدین کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے ، اسے ہم جانتے ہیں۔ نیز مستقبل میں اس کے کیا اثرات ہوں گے اس سے بھی بخوبی واقف ہیں' بہاء الدین غالیینی نے 1997 میں اپنا کلینک شروع کیا تھا۔

غالیینی نے کہا 'میرا دل ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ کم از نصف فلسطینی جوڑے والدین نہیں بن سکیں گے۔'

بدھ کے روز 'رائٹرز' نے اسرائیلی فوج سے اس واقعہ کے متعلق رابطہ کیا تو اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ ان رپورٹس کو دیکھ رہی ہے۔ جان بوجھ کر انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ علاج گاہوں کو حماس نشانہ بنا رہی ہے۔ جبکہ حماس اسرائیلی فوج کے اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

نائٹروجن ٹینک، جہاں ایمبریو محفوظ کیے گئے تھے، غزہ کے سب سے بڑے زرخیزی کلینک، الباسمہ IVF سینٹر میں پڑے ہیں جو 2 اپریل 2024 کو غزہ شہر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعے کے دوران ایک اسرائیلی شیل سے مارا گیا تھا۔ (رائٹرز )
نائٹروجن ٹینک، جہاں ایمبریو محفوظ کیے گئے تھے، غزہ کے سب سے بڑے زرخیزی کلینک، الباسمہ IVF سینٹر میں پڑے ہیں جو 2 اپریل 2024 کو غزہ شہر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعے کے دوران ایک اسرائیلی شیل سے مارا گیا تھا۔ (رائٹرز )

32 سالہ جعفراوی سات اکتوبر کو شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ سے پہلے 'ان وٹرو فرٹیلازیشن' کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ خیال رہے غزہ میں وسیع پیمانے پر یہ سہولت بےاولاد جوڑوں کے لیے موجود تھی۔

فلسطینی بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ آبادی کا کم از کم نصف بنتے ہیں۔ جبکہ شرح پیدائش 3.38 فیصد ہے۔

الغالیینی نے کہا 'فلسطینی جوڑے آئی وی ایف کی فیس ادا کرنے کے لیے ٹی وی اور زیورات تک بیچ دیتے ہیں۔' خیال رہے غزہ میں نو آئی وی ایف کلینکس قائم تھے ۔ جن میں سے سب سے بڑا کلینک الباسمہ میں تھا۔ الباسمہ میں منجمد ایمبریو بڑی تعداد میں رکھے جاتے تھے۔

فلسطینی خاتون نجوا ابو حمدہ، جس کے IVF ایمبریوز البسمہ IVF سینٹر میں محفوظ کیے گئے تھے، غزہ کے سب سے بڑے زرخیزی کلینک جسے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعہ کے دوران اسرائیلی گولے کا نشانہ بنایا گیا تھا، دوحہ میں رائٹرز کو انٹرویو کے دوران اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی ہیں۔  (رائٹرز)
فلسطینی خاتون نجوا ابو حمدہ، جس کے IVF ایمبریوز البسمہ IVF سینٹر میں محفوظ کیے گئے تھے، غزہ کے سب سے بڑے زرخیزی کلینک جسے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعہ کے دوران اسرائیلی گولے کا نشانہ بنایا گیا تھا، دوحہ میں رائٹرز کو انٹرویو کے دوران اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی ہیں۔ (رائٹرز)

32 سالہ جعفراوی مناسب خوراک اور آرام

نہ ملنے کے باعث اپنے دو جڑواں بچوں کو پیدائش سے پہلے کھو چکی ہے۔ جعفری کو بچوں کی یہ خوشی آئی وی ایف کے ذریعے مل رہی تھی۔ لیکن اسرائیلی بمباری کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہونے والی جعفری اولاد کی خوشی نہ دیکھ سکی۔

الباسمہ کے چیف ایمبریولوجسٹ محمد اجور اسرائیلی حملے کے بعد ٹینکوں میں موجود نائٹروجن کو بچانے کے لیے کوشش کرتے رہے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ خیال رہے نائٹروجن ٹینکوں کے لیے درجہ حرارت 180 ڈگری سے نیچے رکھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ہر ماہ ٹینکوں کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کے لیے 'ٹاپ اپ' کی ضرورت ہوتی ہے۔

جعفراوی نے کہا 'اسپتال میں میرے چیخنے اور رونے کی آوازیں اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ 'آئی وی ایف' کے سفر کی تکلیف صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو اس سے گزر چکے ہیں۔'

الغالیینی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کا ایک گولہ مرکز کے کونے پر گرا، جس نے ایمبریولوجی لیب کے گراؤنڈ فلور کو تباہ کر دیا۔' الغالیینی نے کہا 'ایک گولے نے بیک وقت 5000 جانیں چھین لیں۔'

رائٹرز سے وابستہ صحافی جس نے ماہ اپریل میں ایمبریولوجی لیب کو دیکھا نے بتایا کہ ایمبریولوجی لیب تباہ ہو چکی ہے۔ مائع نائٹروجن ٹینک کے ڈھکن کھلے ہوئے تھے۔ ایک ٹینک کے نچلے حصے میں تباہ شدہ خوردبینی جنین تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں