اسرائیل آزادی کی تعطیل عیدِ فصح کیسے منائے جبکہ کئی لوگ تاحال غزہ میں قید ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ہر سال ایلون گیٹ کی والدہ ہزاروں سال قبل مصر سے قدیم اسرائیلیوں کی آزادی کی یاد میں عیدِ فصح منانے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کو گھر سے باہر لے جاتی تھیں۔

لیکن اس سال گیٹ کو یہ جدوجہد درپیش ہے کہ آزادی کی یاد میں ہونے والی عید کی تعطیل کیسے منائیں جبکہ حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے میں اس کی والدہ قتل ہو گئیں اور خاندان کے دیگر افراد کو اغوا کر لیا گیا۔

گیٹ کی بہن کارمل اور اہلیہ یارڈن رومن-گیٹ کو سات اکتوبر کے حملے میں یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ نومبر میں رہا ہو گئی تھیں لیکن بہن تاحال قید ہیں۔

گیٹ نے کہا، "ہم اپنی آزادی کا جشن نہیں منا سکتے کیونکہ ہمارے پاس یہ آزادی ہے ہی نہیں۔ ہمارے بھائی بہنیں، مائیں اور باپ بدستور قید میں ہیں اور ہمیں انہیں رہا کروانے کی ضرورت ہے۔"

پیر کے روز دنیا بھر کے یہودی سینکڑوں برس کی غلامی کے بعد مصر سے اپنے خروج کی انجیلِ مقدس کی کہانی بیان کرتے ہوئے عیدِ فصح کی ہفتہ بھر کی تعطیل منانا شروع کر دیں گے۔

لیکن کئی اسرائیلیوں کے لیے آزادی کے جشن کو سمجھنا اور محسوس کرنا مشکل ہے جبکہ ان کے دوست اور اہلِ خانہ آزاد نہیں ہیں۔

نومبر میں ایک ہفتے کی جنگ بندی میں حماس کے تقریباً نصف یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا تھا جبکہ باقی غزہ میں رہ گئے تھے جن میں سے 30 سے زیادہ کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔

کئی یہودیوں کے لیے عیدِ فصح خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے اور سیڈر کے نام سے معروف کھانے پر مصر سے خروج کا ذکر کرنے کا وقت ہوتا ہے۔

یہودی تعلیمات کے پیروکار چیمٹز کہلانے والے اناج سے پرہیز کرتے ہیں جو اس بے خمیری روٹی کی یاد دلاتی ہے جو بنی اسرائیل نے مصر سے عجلت میں بھاگتے وقت کھائی تھی جب وہ آٹے کا خمیر اٹھنے کا انتظار نہیں کر سکتے تھے۔

لیکن اس سال بہت سے خاندانوں کے لیے یہ بات تکلیف دہ ہے کہ کیسے عید منائیں- یا منائیں بھی یا نہیں۔

جب حماس نے کبٹز بیئری پر حملہ کیا تو گیٹ، ان کی بیوی، 3 سالہ بیٹی، والدین اور بہن اپنے راکٹ پروف سیف روم میں گھنٹوں چھپے رہے۔

لیکن مزاحمت کار گھر میں داخل ہوئے اور اندر موجود تمام افراد کو قتل یا اغوا کر لیا سوائے ان کے والد کے جو باتھ روم میں چھپے ہوئے تھے۔ ان کی والدہ کو گلی میں گھسیٹ کر گولی مار دی گئی۔

بازوؤں اور ٹانگوں سے بندھے ہوئے گیٹ کو بیوی اور بیٹی کے ساتھ ایک گاڑی میں ٹھونس دیا گیا۔ ایک مختصر سٹاپ کے دوران وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ جانتے ہوئے کہ گیٹ تیز دوڑ سکتے تھے، اہلیہ رومن-گیٹ نے بیٹی کو ان کے حوالے کر دیا۔

گیٹ اپنی بیٹی کے ساتھ فرار ہو گئے اور تقریباً نو گھنٹے تک ایک کھائی میں چھپے رہے۔ ان کی بیوی کو دوبارہ پکڑ کر 54 دنوں تک غزہ میں قید رکھا گیا۔

رومن-گیٹ نے ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ اس سال عیدِ فصح زیادہ گہری ہو گی کیونکہ آزادی نے ایک نیا معنی اختیار کر لیا ہے۔

انہوں نے ایک متنی پیغام میں کہا، "آنکھیں بند کرکے اپنے چہرے پر ہوا محسوس کرنا۔ غسل کرنا۔ بغیر اجازت کے ٹوائلٹ جانا اور مکمل رازداری اور استحقاق کے ساتھ جب تک میری مرضی ہو اور کوئی بھی مجھ پر زور نہ دے، دوسری طرف میرا انتظار کرنا یہ یقینی بنانے کے لیے کہ میں بدستور ان کی ہوں۔"

انہوں نے کہا، بدستور یہ عید ان کے شوہر کی بہن اور دیگر یرغمالیوں کے لیے گہرے غم اور فکر کے زیرِ سایہ ہو گی۔ اس دفعہ یہ خاندان ایک ریستوراں میں جشن کے بغیر، ایک خاموش عشائیے کے ساتھ چھٹی منائے گا۔

یروشلم میں رہنے والے کینیڈا کی یارک یونیورسٹی کے امریطس پروفیسر ربی مارٹن لاکشین نے کہا، یہ اتنا مشکل ہے جتنا درد کے وقت ہوتا ہے۔ یہودیوں نے ہمیشہ ظلم و ستم اور ایذا رسانی کے دوران تعطیلات منانے کی کوشش کی ہے جیسے ہولوکاسٹ کے دوران حراستی کیمپوں میں۔

انہوں نے کہا، "وہ آزادی کا جشن نہیں منا سکتے لیکن آزادی کی امید کی خوشی منا سکتے ہیں۔"

بحران سے یرغمال خاندان زیادہ متأثر ہوتے ہیں۔ جس جنگ میں 260 فوجی مارے گئے ہیں، اس نے عموماً خوشی کو ماند کر دیا ہے۔

حکومت نے حالات کی روشنی میں اور عوامی احتجاج کے خوف سے مئی میں آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کو بھی محدود کر دیا ہے۔

اسی طرح مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان جس کا اختتام سہ روزہ عید الفطر کی خوشی پر ہوتا ہے، فلسطینیوں کے لیے ایک اداس اور خاموش معاملہ تھا۔

غزہ کے 2.3 ملین میں سے 80 فیصد سے زیادہ افراد لڑائی سے بے گھر ہو چکے ہیں اور غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ اسرائیلی جارحیت میں تقریباً 34,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ میں مصائب، تباہی اور بھوک کے مناظر کو اسرائیل میں بہت کم توجہ ملی ہے جہاں زیادہ تر عوامی اور قومی میڈیا سات اکتوبر کے حملے کے بعد اور جاری جنگ پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

کئی مہینوں کی بےقاعدگی کے بعد بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر بات چیت رکی ہوئی نظر آتی ہے - اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ عیدِ فصح کے لیے گھر پر ہوں گے۔

یرغمالیوں کے درد کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی ہے اور کچھ یہودی تارکینِ وطن نے ربیوں سے خصوصی طور پر یرغمالیوں اور اسرائیل کے لیے اس سال کے سیڈر میں دعاؤں کے لیے کہا ہے۔ دوسروں نے موجودہ حقیقت کی عکاسی کرنے کے لیے سیڈر کے دوران پڑھی جانے والی ایک نئی ہگادہ کتاب تخلیق کی ہے۔

نئی ہگادہ کے مصنف نوم زیون نے جنگ سے متأثرہ خاندانوں کو 6,000 نقول عطیہ کی ہیں۔

یروشلم کے ہارٹ مین انسٹی ٹیوٹ میں فیکلٹی آف جیوش اسٹڈیز کے امریطس ممبر زیون نے کہا، "سیڈر ماضی کی غلامی اور مصر سے آزادی کی یاد کو زندہ کرنے اور اس سے سبق سیکھنے میں ہماری مدد کرے گا لیکن 2024 میں اسے مبہم اور تکلیف دہ حال کے بارے میں عصری سوالات بھی پوچھنا ہوں گے اور سب سے بڑھ کر مستقبل کے لیے امید پیدا کرنا ہو گی۔"

نظرِ ثانی شدہ ہگادہ میں یرغمالی خاندانوں کے اقتباسات شامل ہیں جن میں لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ درد کے باوجود نفرت نہ کریں۔ یہ یہودیوں اور ریاست اسرائیل کے بارے میں وجودی سوالات اٹھاتے ہوئے تعطیل کے دوران ملے جلے جذبات بیان کرنے کے لیے ایک راہنما پیش کرتی ہے۔

کچھ خاندان کہتے ہیں کہ جشن منانا بہت تکلیف دہ ہے۔

نیرت لاوی ایلون کے بیٹے کی دوست کو نووا میوزک فیسٹیول سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ دو ماہ بعد خاندان کو اسرائیلی فوج کی طرف سے اطلاع ملی کہ دیواروں پر نقاشی کرنے والی 27 سالہ فنکارہ اِنبار ہیمن کی موت ہو گئی تھی جسکی لاش تاحال غزہ میں ہے۔

ایلون نے کہا، "آزادی کی تعطیل منانا ناممکن ہے۔" اس سال خاندان کے ساتھ رہنے کے بجائے وہ کچھ دن صحرا میں گذارنے والی ہیں۔ انہوں نے کہا، تب تک کوئی بندش نہیں ہوگی جب تک تمام یرغمالیوں بشمول ہلاک شدگان کی باقیات کی واپسی نہ ہو جائے۔

عیدِ فصح سے پہلے کچھ خاندان اب بھی امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ ان کے رشتہ داروں کو وقت پر رہا کر دیا جائے گا۔

شلومی برجر کی 19 سالہ بیٹی ایگم کو غزہ کی سرحد کے قریبی مقام پر فوج میں ان کی خدمات کے آغاز کے دو دن بعد اغوا کر لیا گیا تھا۔

حماس کے حملے کے فوراً بعد ان کے خون آلود چہرے کی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں سے ایک میں مسلح شخص کو انہیں ٹرک میں دھکیلتے ہوئے اور دوسری میں دیگر یرغمالیوں کے ساتھ گاڑی کے اندر دکھایا گیا۔

انہوں نے کہا، اس کے بعد میری بیٹی کے زندہ ہونے کا واحد ثبوت رہائی پانے والے ایک یرغمالی کی کال تھی جس میں انہیں ایگم کی طرف سے سالگرہ کی مبارکباد دی گئی تھی۔ وہ اس یرغمالی کے ساتھ سرنگوں میں رہی تھی۔

پھر بھی وہ امید کا دامن چھوڑ دینے سے انکاری ہیں۔

برجر نے کہا، "عیدِ فصح کی کہانی کہتی ہے کہ ہم غلامی سے آزادی کی طرف آتے ہیں تو یہ ایک متوازی کہانی ہے۔ یہ واحد چیز ہے جس پر مجھے یقین ہے کہ ایسا ہوگا۔ یہ کہ ایگم اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ جائے گی۔ وہ اور دیگر تمام یرغمالی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں