ایرانی حملوں پر اسرائیل کی جوابی کارروائی سے وسیع تر علاقائی جنگ کا خطرہ ہے: اردن

ایران یا اسرائیل کسی کو بھی اردن کو میدانِ جنگ نہیں بنانے دیں گے: صفادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کے وزیرِ خارجہ نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ ایرانی حملوں کے خلاف اسرائیل کی جوابی کارروائی اس بات کا حقیقی خطرہ بن سکتی ہے کہ پورا خطہ ایک تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ جائے۔

اردن کے سرکاری میڈیا کے جاری کردہ ایک انٹرویو میں ایمن الصفدی نے کہا، ان کا ملک بڑی طاقتوں کو کشیدگی کو روکنے کے لیے آمادہ کر رہا ہے جس کے علاقائی استحکام اور سلامتی پر دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

الصفدی نے کہا، "خطرات بہت بڑے ہیں۔ یہ خطرات پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتے ہیں جو اس خطے میں ہمارے لیے تباہ کن ہو گا اور ان سے باقی تمام دنیا بشمول امریکہ پر اس کے سنجیدہ اثرات ہوں گے۔"

نیز انہوں نے کہا، "صورتِ حال نہایت خطرناک ہے۔ علاقائی عدم استحکام کے امکانات حقیقی ہیں اور اسے روکنا ہو گا۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔"

کٹر امریکی اتحادی اردن نے امرکی فضائی دفاع کی مدد اور برطانیہ اور فرانس کی حمایت سے زیادہ تر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرایا جو یروشلم اور اسرائیل میں فوجی اہداف کے ایک وسیع سلسلے کی طرف پرواز کر رہے تھے۔

الصفدی نے کہا، "اب دباؤ اسرائیل پر ہونا چاہیے کہ وہ جوابی کارروائی نہ کرے۔" نیز کہا کہ تہران نے کہا تھا کہ اس نے یکم اپریل کو دمشق میں اپنے سفارت خانے کے احاطے پر مشتبہ اسرائیلی حملے کے جواب میں یہ کارروائی کی اور وہ مزید کچھ نہیں کرے گا جب تک اسرائیل جواب نہ دے۔

اردن کے ہمسایہ ممالک شام اور عراق دونوں میں ایرانی پراکسی طاقتیں موجود ہیں جو اسرائیل اور اس کے مقبوضہ مغربی کنارے کے بالکل برابر میں واقع ہیں۔

الصفدی نے کہا۔ "ہم اس جنگ کے بالکل مرکز میں ہیں تو فریقین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے ملک کی حفاظت اور اس کشیدگی کو روکنے کے لیے جو کرنا ہے، ہم کریں گے۔"

الصفدی نے خبردار کیا کہ یہ معاملہ مزید مشتعل ہونے کی صورت میں ان کا ملک مضبوطی سے کارروائی کرے گا اور "ایران یا اسرائیل کسی کو بھی اردن کو میدانِ جنگ" نہیں بنانے دے گا۔

انہوں نے کہا، "ہم ایسے کسی بھی ہتھیار کو مار گرائیں گے جو ہمارے لوگوں کے لیے خطرہ اور ہماری سالمیت کی خلاف ورزی کریں یا اردنی لوگوں کے لیے خطرے کا باعث ہوں۔ اور ہم نے اسرائیل اور ایران دونوں پر یہ واضح کر دیا ہے۔"

جو ڈرونز عراق کی سمت سے آئے اور جنوبی اردن اور عقبہ شہر کے اوپر سے گذرے جن کا رخ اسرائیل کی ایلات بندرگاہ تھی، انہیں بھی روک دیا گیا۔

الصفدی نے کہا کہ اسرائیل وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایران سے تصادم کو غزہ سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ نیز انہوں نے کہا، "اسرائیلی رہنما کو ایران کے ساتھ جنگ میں واشنگٹن اور بڑی مغربی طاقتوں کو گھسیٹنے نہیں دینا چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں