ہمیں فوج پر بھروسہ تھا، اسی لیے سات اکتوبر کا دھچکا لگا: اسرائیلی وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حیران کن حملہ کرکے اسرائیل کی ٹیکنالوجی اور فوجی طاقت کی قلعی کھول دی۔ اسرائیل نے اس دن سے ہی غزہ پر جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے اور 194 دنوں میں 33899 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ سات اکتوبر کے حملے میں یرغمال بنائے گئے 130 کے قریب اسرائیلی اب بھی حماس کے پاس ہیں۔ تاریخ کی بدترین دہشتگردی کرنے پر ایک طرف پوری دنیا میں اسرائیل کیخلاف احتجاج کیا جارہا تو دوسری طرف اپنی ناکامی پر اسرائیل کے رہنماؤں میں بھی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان اختلافات اب ڈھکے چھپے نہیں رہے بلکہ کئی مواقع پر سامنے آچکے ہیں۔ اب ایک بیان میں اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے کہا ہے کہ فوج کو اندرونی آڈٹ کے بغیر "بلینک چیک" نہیں دیا جا سکتا۔ اسرائیلی اخبار ’’ ہارٹز‘‘ کے مطابق وزیر خزانہ نے اسرائیلی آرمی ریڈیو کو بیانات میں زور دیا کہ بجٹ میں اضافے کی منظوری سے پہلے فوج کو کچھ اندرونی آڈٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے فوج کو بلینک چیک دیا اور اس پر اندھا اعتماد کیا اور پھر سات اکتوبر کو ہمیں حملے کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ میں فوج پر بھروسہ کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔ میں ان سے پیار کرتا ہوں، ان کی تعریف کرتا ہوں، ان کی حمایت کرتا ہوں، لیکن میں انہیں بلینک چیک دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔

وزیر خزانہ سموٹریچ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ چھوٹی اور سمارٹ فوج بنانے کا تصور مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ اسرائیلی فوج کو 200 بلین شیکل مالیت کا چیک دینے کی توقع رکھتے ہیں تاکہ وہ خود کو جوابدہ بنائے بغیر اور سات اکتوبر سے سبق سیکھے بغیر جو چاہے کر سکے۔ وزیر خزانہ کا یہ بیان فوج کے بجٹ پر اسرائیلی قیادت کے درمیان کئی اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔

سال 2023 کے دوران اسرائیلی فوج کا فوجی بجٹ تقریباً 31 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس بجٹ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جاری جنگ کی لاگت میں تقریباً 8 ارب ڈالر کا اضافہ کیا گیا اور یہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ 2022 میں فوج کا بجٹ لگ بھگ 23 ارب ڈالر رہا تھا۔

واضح رہے اسرائیل کا مشرق وسطیٰ میں چوتھا بڑا دفاعی بجٹ ہے اور وہ اپنی فوجوں پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں دنیا میں 17ویں نمبر پر ہے۔ پچھلے سال اسرائیل نے 2023 اور 2024 کا بجٹ پاس کیا تھا لیکن حکومت نے جنگ، معاشی اور مالی نقصانات اور سیکورٹی ضروریات کے پیش نظر بجٹ میں ترمیم کردی تھی۔ سال 2023 و 2024 کی مدت میں جنگ کے مالی اثرات کا تخمینہ 150 بلین شیکل یا 40.25 بلین ڈالر لگایا گیا تھا۔ اس وقت یہ فرض کیا گیا تھا کہ شدید لڑائی پہلی سہ ماہی میں ختم ہوجائے گی تاہم ایسا نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں