امارات میں ریکارڈ توڑ بارشوں کے باوجود ہسپتالوں میں بلاتعطل طبی سہولیات کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات میں کئی دہائیوں کے دوران چوبیس گھنٹوں میں ہونے والی ریکارڈ بارش کے دوران بھی اماراتی ہسپتالوں میں طبی خدمات بلا تعطل جاری رہیں۔

امارات میں 74 سال بعد 24 گھنٹوں میں ریکارڈ توڑ بارش کے سبب عمومی ٹرانسپورٹ اور مارکیٹوں سے لے کر ائیر پورٹس سب کی خدمات متاثر ہوئیں مگر ہسپتالوں نے اپنی خدمات میں مسلسل بارشوں سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال کے باوجود تعطل نہ آنے دیا گیا۔ بلکہ ہنگامی حالات کے باعث شہریوں کے لئے خدمات میں سرعت اور سہولت بڑھا دی گئی۔

واضح رہے امارات میں منگل کے روز سے شروع ہونے والی شدید ترین بارشوں نے 1949 میں ریکارڈ توڑ بارشوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ستر سال سے زائد اس عرصے میں چوبیس گھنٹوں کے دوران ایسی بارش نہیں ہوئی تھی جو منگل کے روز سے چوبیس گھنٹوں کے دوران ہوئی ہیں۔

چوبیس گھنٹوں میں پورے متحدہ عرب امارات میں ہر طرف جل تھل رہا۔ سڑکوں پر ٹریفک چلنا مشکل ہو گیا۔ک یونکہ بہت ساری سڑکوں پر جگہ جگہ پانی بھر گیا، درختوں کے تنے تک ٹوٹ گرے۔ ائیر پورٹس سے پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا ۔ لیکن سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ہسپتالوں نے ہنگامی منصوبے بنائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فرنٹ لائن خدمات جاری رہ سکیں اور ضرورت مند مریضوں کے لیے دستیاب ہسپتالوں میں طبی سہولیات اور طبی عملہ دستیاب رہے۔

اماراتی حکومت کی ہدایات پر ملک بھر میں، ہسپتالوں نے آفات سے نمٹنے کے منصوبوں کی وجہ سے طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ برجیل ہولڈنگز میں ایمرجنسی سروسز کے کارپوریٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر زہیر الشرافی، جو نجی ہسپتالوں کا نیٹ ورک چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے' طوفان کی وارننگ ملنے کے بعد انہوں نے حکام کے ساتھ مل کر کام کیا۔'

انہوں نے 'العربیہ' کو بتایا 'مریضوں کو ہنگامی منصوبہ بندی اور تیاری کے بارے میں یقین دلایا گیا۔ ضرورت پڑنے پر عملے اور مریضوں کی منتقلی کے لیے ٹرانسپورٹ کو محفوظ بنایا گیا تھا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں