دبئی: اپنی جان پر کھیل کر بھارتی خاندان کو بچانے والے مصری شہری کا خصوصی انٹرویو

’سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچاتے مجھے خیال بھی نہیں آیا اس میں میری جان بھی جا سکتی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں سیلاب کے دوران پانی کے ریلے میں پھنسے ایک خاندان کو بچانے والے مصری شہری حازم سوید کی بہادری کی غیرمعمولی تحسین کی جا رہی ہے۔

بنک مصر ایمریٹس برانچ کے آپریشنل رسک کے مینیجر حازم سوید امارات میں مقیم ہیں جنہوں نےسیلاب کے دوران ایک گاڑی کے اندر سیلابی ریلے میں پھنسے خاندان کو اپنی جان پر کھیل کر یقینی موت سے بچایا۔

مصری بینکار کے بہادرانہ اقدام کے بعد قاہرہ میں بینک آف مصر کے مرکزی صدر محمد الاتربی بینک کےبورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے مکمل شکریہ ادا کرتے ہوئے مصری بینکار کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے حازم السوید کی بہادری کو سراہا۔

حازم السوید نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2002ء سے امارات میں کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ملازمت کے لیے دبئی آئے تھے۔ اس دوران وہ بینک آف مصر کی برانچ میں آپریشنل رسک مینیجر کے عہدے تک پہنچنے سے قبل وہ بنکوں میں متعدد پوسٹوں پرفائز رہے۔ وہ اب اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت دبئی میں رہ رہے ہیں۔

اس واقعے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے بینک کے زیادہ تر ملازمین گھر سے کام کر رہے تھے۔ صرف 25 فیصد عملہ دفتر میں حاضر تھا جن میں وہ بھی شامل تھے۔ وہ دوپہر ڈھائی بجے اپنے کام کی جگہ سے اپنے گھر واپس جانے کے لیے نکلے۔ وہ واپسی پر البدع اسٹریٹ پر ایک سرنگ میں پہنچے۔ سرنگ کے باہر پانی کے تالاب تھے۔ انہوں نے گھر کے لیے متبادل راستہ اختیار کیا اور سرنگ میں داخل نہیں ہوئے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ایک کار کو سرنگ میں داخل ہوتے ہوئے اور پانی میں ڈوبتے ہوئے دیکھا۔ اس میں ایک ہی خاندان کے بہت سے لوگ تھے۔‘ انہوں نے وضاحت کی کہ میں نے فوری طور پر ان کو بچانے کے لیے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی کار کو وہیں چھوڑ دیا۔ میرے پہنچنے سے قبل پانی خاندان کی گاڑی میں داخل ہونے لگ گیا۔ گاڑی کا الیکٹرک سسٹم بند ہوگیا تھا اور دروازے بھی نہیں کھل رہے تھے۔

حازم السوید نے کہا کہ متاثرہ خاندان بھارتی ہے۔ اس میں ایک شخص، بیوی اور بیٹا شامل تھے۔ میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے کپڑے اور جوتے اتار کر اپنی گاڑی میں ڈالا اور تیراکی کےانداز میں ان کی طرف بڑھا۔ انہوں نے ایک ایک کرکے خاندان کو بچایا۔ سب سے پہلے ان کے سب سے چھوٹے بچے کو نکالا۔ پھر خاتون کو اور اسکے بعد مرد کو نکالا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ میں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ ایک خطرناک کام ہے جس میں میری اپنی جان جا سکتی ہے۔ پانی بجلی کی تاروں کو چھونے کا خطرہ تھا۔ مجھے یہ پریشانی تھی کی خاندان کو کیسے زندہ بچایا جائے۔ آخر کار میں اپنی کوشش میں کامیاب رہا اور میں سیلاب میں پھنسے خاندان کو بچا لیا۔

انہوں نے بتایا کہ کار کے دروازے بالآخر کھل گئے، جس کے بعد دیگر افراد مدد کے لیے پہنچے اور آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی خاندان کو ریسکیو کرنے کی میری ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور صارفین کی طرف سے تحسین پر ان کا شکر گذار ہوں۔ انہوں نے مصری بنک برانچ کے ملازمین کی طرف سے تحسین پر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں