عالمی برادری ملکر جنگ روکے، مشرق وسطی جنگی دھانے پر ہے: گوتریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے غزہ میں ساڑھے چھ ماہ سے جاری جنگ کے بعد ایران اور اسرائیل کشیدہ صورت حال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے پورا مشرق وسطی ایک مکمل جنگ کے دھانے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز کہی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ نےزیر محاصرہ اور خوراک سے محروم غزہ میں انسانی جہنم کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔
وہ سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کے خطاب کے دوران اران اور اردن کے وزرائے خارجہ سمیت کئی دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔

انہوں نے اس موقع پر سبھی فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا ' ایک غلط اندازہ ، ایک غلط بات اور ایک غلطی بھی ناقابل تصور ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ بہت خطرناک چیز ہو گی۔جو علاقائی سطح پر ایک بھر پور تنازعہ کا باعث بن سکتی ہے اور اس صورت حال میں ملوث فریقوں کے لیے بہت تباہ کن ہو گی۔

دمشق میں قائم ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے ہفتے کے آخر میں اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کا ایک بڑا حملہ کر دیا۔اس کے بعد اسرائیل نے ایک بڑے حملے کی دھمکی دے دی ہے مگر اسرائیلی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب اور کہاں حملہ کریں گے، تاہم اسرائیل کے فوجی سربراہ نے ایک بھر پور حملے کابھر پور کا اعلان کیا ہے۔

گوتریس نے ایرانی قونصلیٹ پر حملے اور ڈرونز حملے کرنے پر دونوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا' مؤخر الذکر نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ انتقامی کارروائی کے خونی چکر کو ختم کیا جائے اسے روکنے کا وقت آگیا ہے۔ '

سیکرٹری جنرل نے کہا ' بین الاقوامی برادری کو ایسے کسی بھی اقدام کو روکنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے جو پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ کے کنارے پر دھکیل سکتا ہے، جس کے شہریوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ مجھے واضح کرنے دیں کہ یہ خطرات کئی محاذوں پر بڑھ رہے ہیں'

انسانی جہنم :

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'غزہ میں ساڑھے چھ ماہ کی اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے ایک انسانی جہنم کا منظر پیش کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے علاقے میں مزید امداد کی اجازت دینے کے حوالے سے محدود نوعیت کا اضافہ کیا ہے، انہوں نے اسرائیل سے اس سمت میں مزید کام کرنے کا مطالبہ کیا۔

کیونکہ اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں بمشکل ممکن ہو رہی ہیں۔ ہمارے ادارے تیزی سےاور منظم طریقے سے کام نہیں کر سکتے'۔

سیکرٹری جنرل کی یہ تقریر اس وقت سامنے آئی جب سلامتی کونسل دن کے اختتام پر اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے فلسطینی مطالبے پر ووٹ ڈالنے کے لیے تیار تھی -اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے تشدد کو روکے۔ واضح رہے ایک 14 سالہ اسرائیلی لڑکے کی ہلاکت کے بعد درجنوں فلسطینی دیہاتوں میں اسرائیلی حملے شروع ہو ئے ہیں۔

واضح رہے کہ اب تک غزہ میں 33970 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں