اسرائیلی حملے میں رفح میں ایک ہی خاندان کے نو افراد ہلاک: غزہ اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ ہفتے کو رات کے وقت اسرائیلی حملے میں جنوبی شہر رفح میں چھ بچوں سمیت ایک ہی فلسطینی خاندان کے نو افراد ہلاک ہو گئے۔

شہر کے النجار ہسپتال کے مطابق دو خواتین اور ایک مرد کے ساتھ ایک سے سات سال کی عمر کے پانچ بچے اور ایک 16 سالہ لڑکی ہلاک شدگان میں شامل ہیں۔

غزہ کے شہری دفاع کے ادارے کے ترجمان محمود بسال نے ایک بیان میں کہا، "اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے رفح میں تل السلطان میں رضوان خاندان کے ایک گھر پر حملے کے بعد ملبے سے چھ بچوں سمیت نو شہداء کو نکال لیا گیا۔"

ہسپتال کے باہر اے ایف پی کے ایک صحافی نے لوگوں کو چھوٹے بچوں کی لاشوں پر غمزدہ ہوتے دیکھا۔ ایک عورت نے ایک مردہ لڑکے کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا جبکہ سر پر اڑتے جہازوں کی گرج دار آواز آ رہی تھی۔

ہمسایہ ابو محمد زیادہ نے کہا، "لوگ سکون سے سو رہے تھے۔"

نیز انہوں نے کہا، "آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی مزاحمت کار نہیں تھا حتیٰ کہ خاندان کے سربراہ کے علاوہ بالغ مرد بھی نہیں تھے۔ وہ سب عورتیں اور بچے تھے۔"

سات اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد اسرائیل نے غزہ کے شمال میں رہنے والے فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ جنوب میں "محفوظ علاقوں" مثلاً رفح منتقل ہو جائیں۔

لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس کے بعد سے شہر پر حملہ کرنے کا عزم کیا ہے جہاں تقریباً 1.5 ملین لوگ – اس علاقے کی نصف سے زیادہ آبادی – پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے دو ماہ سے حماس کے مزاحمت کاروں کے خلاف فوج بھیجنے کی دھمکی دی ہے لیکن اس طرح کی کارروائی کے بغیر بھی رفح باقاعدہ بمباری کی زد میں ہے۔

بسال نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے رات بھر رفح کے کئی علاقوں پر حملہ کیا جس میں سلام محلہ بھی شامل ہے جہاں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے ایک گھر اور ایک نرسری سکول کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا، "رفح پر یہ رات بہت گراں گذری ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں