عراق میں ایران نواز ملیشیا کے مرکز پر حملے میں اسرائیل کا ہاتھ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی سکیورٹی میڈیا سیل نے آج ہفتے کو ایران نواز ’الحشد الشعبی‘ فورسز کے ایک رکن کی ہلاکت اور "کالسو" کیمپ کے اندر ایک دھماکے میں فوج کے ایک رکن سمیت 8 افراد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا۔ شمالی بابل میں ہونے والے اس حملے میں امریکہ نے ملوث ہونے کی تردید کی ہے جس کےبعد یہ کہا جا رہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

سکیورٹی میڈیا سیل نے ایک بیان میں مزید کہا کہ کیمپ میں دھماکے اور آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ فریقوں پر مشتمل ایک خصوصی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

بیان میں ایئر ڈیفنس کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دھماکے سے پہلے اور اس کے دوران بابل کی فضائی حدود میں کوئی ڈرون یا جنگی طیارہ موجود نہیں تھا۔

بابل گورنریٹ میں ایک سکیورٹی ذرائع نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "کالسو" کیمپ مشترکہ سکیورٹی ہیڈ کوارٹر ہے کیونکہ اس میں پاپولر موبیلائزیشن فورسز کی فائٹنگ بریگیڈز کے علاوہ عراقی فوج کے یونٹس اور وفاقی پولیس کے دیگر ہیڈ کوارٹر شامل ہیں۔

قبل ازیں بابل گورنری میں سکیورٹی کمیٹی نے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ اڈے کو ڈرون سے نہیں بلکہ میزائل حملوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

بین الاقوامی اتحاد میں شامل ایک فوجی اہلکار نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ اتحادی افواج کی عراق کے شہر بابل میں کوئی فضائی سرگرمی نہیں ہے جب کہ ایک عراقی سکیورٹی ذریعے نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ وہ حملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

اپنی طرف سے ایک امریکی اہلکار نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ واشنگٹن کا عراق کے بابل میں حالیہ حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کمانڈ سینٹ کام نے اپنی طرف سے اعلان کیا کہ امریکہ نے جمعہ کو عراق میں "حملہ نہیں کیا"۔

سینٹ کام نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھا کہ "ہم ان معلومات سے واقف ہیں جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکہ نے آج عراق میں فضائی حملے کیے ہیں"۔

پاپولر موبلائزیشن فورسز نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ بابل گورنری کے شمال میں شاہراہ پر واقع المشرو ضلع میں کالسو فوجی اڈے پر دھماکہ ہوا ہے جو پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ہیڈکوارٹر میں سے ایک ہے۔ دھماکے سے بھاری مالی نقصان اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اےایف پی‘ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ "غیر ملکی میڈیا میں رپورٹ ہونے والی معلومات پر تبصرہ نہیں کرتی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں