فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے سے انکار کرنا قابل مذمت ہے: خلیجی ممالک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

خلیجی ممالک سمیت مشرق وسطی کے کئی ملکوں نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے سے متعلق قرار داد منظور کرنے میں ناکامی کی مذمت کی ہے۔ مختلف عرب ملکوں کی طرف سے اس سلسلے میں جمعہ کے روز مذمتی بیانات میں اظہار افسوس کیا گیا ہے۔

یہ قرار داد فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ جس کے حق میں پندرہ میں سے بارہ ووٹ آئے مگر امریکہ نے اس قرار داد کو ویٹو کر کے قرار داد ناکام بنادیا۔ اسرائیل کے دو کٹر حامیوں برطانیہ اور سوئٹزر لینڈ نے اس قرار داد کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینا منظور کیا جائے۔

متحدہ عرب امارات نے اس بارے میں کہا 'فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کا دیا جانا خطے میں قیام امن کی کوششوں کے لئے ایک اہم پیش رفت ہو سکتی تھی۔'

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی فلسطینی قرار داد کے منظور نہ ہو سکنے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے میں رکاوٹیں پیدا کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔'

مملکت نے بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہوئے اپنے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ عالمی برادری فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور فلسطینیوں کے مستقبل کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے 1967 کی سرحدات کے مشرقی یروشلم کے دارالحکومت والی مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو ممکن بنائے۔'

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق قطر نے بھی اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی مکمل رکنیت کی قرار داد کی عدم منظوری پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اردن کی طرف سے بھی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی مکمل رکنیت کےحق میں قرار داد منظور نہ ہو سکنے پر اظہار افسوس کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ و امور تارکین وطن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے۔ لیکن اسرائیل اس کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو فلسطینی ریاست کو ضرور تسلیم کرنا چاہئے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوششوں کرنے سے اسرائیل کیں کوششوں کو روکا جائے۔

اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تمام اقوام سے کہا 'چار جون 1967 والی پوزیشن پر فلسطینی ریاست کے قیام کے جواز کو تسلیم کریں تاکہ خطے میں امن اور استحکام ممکن ہوجائے۔' اردنی سفیر قداح نے کہا ' دنیا جانتی یے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام ، اس کی مکمل رکنیت دی جائے۔

دوسری جانب امریکہ نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کو سلامتی کونسل میں ویٹو کر کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے روک دیا تھا تاکہ فلسطینیوں کو عالمی ادارے کی مکمل رکنیت دینے سے انکار کیا جا سکے۔ امریکہ نے قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا جس میں 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو سفارش کی گئی تھی کہ ریاست فلسطین کو رکنیت دی جائے۔امریکہ دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ یہ ووٹ فلسطینی ریاست کی مخالفت کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ صرف فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات سے آئے گا۔

اقوام متحدہ میں نائب امریکی سفیر رابرٹ ووڈ نے کونسل کو بتایا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک بیان میں امریکی ویٹو کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ، غیر اخلاقی اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے ووٹنگ کے بعد جذباتی ہو کر کہا حقیقت یہ ہے کہ یہ قرارداد منظور نہیں ہوئی اس سے ہمارا حوصلہ نہیں ٹوٹے گا اور یہ ہمارے عزم کو شکست نہیں دے گی۔ ہم اپنی کوششوں جاری رکھیں گے۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں حماس کے درمیان جنگ کے چھ ماہ بعد اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے فلسطینیوں کا دباؤ آیا، اور جب اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کو بڑھا رہا ہے، جسے اقوام متحدہ غیر قانونی سمجھتی ہے۔ اسرائیلی وزیر خاجہ کاٹز نے ویٹو کرنے پر امریکہ کی تعریف کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں