اسرائیل: فلسطینی معیشت بھی زیر محاصرہ آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سات اکتوبر کے بعد جنگ زدہ فلسطینیوں کی معیشت بھی اسرائیلی فوج کے نرغے میں ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنگ کے آغاز سے ہی فلسطینی اتھارٹی کے حصے کے محصولات کو فلسطینیوں کو منتقلی روک دی تھی۔ واضح رہے یہ محصولات اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کا حق تسلیم کیے گئے تھے۔

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سات ماہ ہونے کو ہیں اور یہ معاشی سلسلہ بھی مسلسل قدغنوں اور پابندیوں کی زد میں ہے۔ اس معاشی ناکہ بندی نے مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا یے۔

اقتصادی امور کے عادل سمارا نے خبر رساں ادارے ،اے ایف پی، کوبتایا اسرائیل نے مغربی کنارے کے محدود تر حصے میں فلسطینی اتھارٹی کے سیاست کے ساتھ ساتھ معاشی پر بھی شروع سے ہی کاٹ رکھے ہیں۔ نیز اب غزہ جنگ کے دوران مزید معاشی ناکہ بندی کی زد میں ہے۔

محصولات سے حاصل شدہ رقم کی ادائیگی روکنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی مزدوروں کے اسرائیل میں داخلے کو بھی روک کر ان کے روزگار ختم کر دیے ہیں۔

اسی طرح بیت المقدس میں کرسمس کے دنوں بھی تشدد سے متاثرہ علاقے میں سیاحت میں شدید مندی کا ماحول ہے جو فلسطینیوں کے ذریعہ معاش کے لئے نقصان دہ ہو چکا ہے۔

سمارا نے کہا کہ ،تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو اسرائیلی قبضے کے تحت فلسطین کی معیشت کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہنے دیا گیا۔

اسرائیل نے بار بار اس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انتہائی ضروری محصولات کے اختیار سے محروم رکھا ہے۔ اب غزہ کی جنگ نے اسرائیل کی اس گرفت کو مزید سخت کر دیا ہے۔

سمارا نے کہا، 7 اکتوبر سے زیادہ تر کسٹم ڈیوٹی روک دی گئی ہے۔ان فنڈز کے بغیر، فلسطینی اتھارٹی اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور اس کے چلانے کے اخراجات ادا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ اسرائیل معاشی قتل عام بھی کررہا ہے اور فلسطینیوں کا اجتماعی معاشی سزا بھی دے رہا ہے۔

فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے جاری اس بے مثال مالیاتی بحران پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کی حکومت کا خسارہ سات ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے۔

اجتماعی سزا

پیرس پروٹوکول، جیسا کہ 1993 اور 1995 کے اوسلو معاہدوں کے تحت ان پر دستخط کیے گئے تھے، فلسطینی ریاست کے قیام تک، پانچ سال کے لیے نافذ العمل تھے۔ لیکن طویل مدتی امن معاہدے کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ یہ اب بھی فلسطینی معیشت کے تقریباً تمام پہلوؤں پر اسرائیل کا ہی کنٹرول ہے۔ سمارا نے کہا ،پروٹوکول کے ذریعے سرمایہ کاری کو بھی روکا جا رہا ہے، جس نے وضاحت کی کہ اسرائیل فلسطینی علاقوں کی زمینی وسائل، زمین اور پانی کے ذرائع کو کنٹرول کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ کوئی بھی فیکٹری یا دکان جس کے لیے ان وسائل تک رسائی کی ضرورت ہو مغربی کنارے میں تعمیر کی جائے، اسرائیل کو اجازت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے سیکورٹی کے وزیر اتمار بین گویر اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے تحت اسرائیل کا موقف اور بھی سخت ہو گیا ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں