ایران سے تیل حاصل کرنے والوں پر امریکی کانگریس کی طرف سے پابندیوں کا بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’سی این این‘ نے ہفتے کے روز کہا کہ ایوان نمائندگان نے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں امریکی انتظامیہ کو ایرانی تیل حاصل کرنے اور اسے صاف کرنے والی بندرگاہوں اور ریفائنریوں پر پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ ایوان نمائندگان کی طرف سے منظور کردہ مسودہ قانون میں امریکہ میں منجمد روسی اثاثوں کو ضبط کرنے اور یوکرین کو ان کی منتقلی کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

روسی ’سپوتنک‘ خبر رساں ایجنسی نے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ "روسی اثاثوں کی ضبطی کا ذمہ دار ہوگا"۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "روسی اثاثوں کی ضبطی سے امریکہ کی شبیہہ کو نقصان پہنچے گا اوریہ اقدام ملک میں سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنے کا باعث بنے گا"۔

مسودہ قانون کسی بھی ایسے شخص پر پابندیاں عائد کرتا ہے جو اقوام متحدہ کے ایران پر عائد کردہ میزائل پابندی کے تحت آتا ہے یا ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی سپلائی یا فروخت میں شامل ہے۔

یہ منصوبہ ایران کو امریکی نژاد سامان اور ٹیکنالوجی کی برآمد پر مزید پابندیاں بھی عائد کرے گا۔

فنانشل ٹائمز اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ سال کے آغاز سے لے کر اب تک تقریباً تمام ایرانی تیل کی فروخت چین کو گئی ہے۔ کیپلر کے مطابق ایک کمپنی جو دنیا بھر میں تیل کے ٹینکروں پر نظر رکھتی ہےنے نوٹ کیا کہ تہران پر سخت پابندیاں عائد کرنے سے تیل کی مارکیٹ غیر مستحکم ہو جائے گی اور امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں