ایران پراسرائیلی حملےکا نشانہ بننے والے مقام کی حملے سے قبل اور بعد کے مناظر کی ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ جمعہ کی صبح اسرائیل کی طرف سے جنوبی ایران کے شہر اصفہان میں پاسداران انقلاب کے ایک فوجی اڈے پر کیے گئے حملے کےسیٹلائٹ مناظر سامنے آئے ہیں جن میں حملے سے قبل اور اس کے بعد کے مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے کئے گئے خصوصی حملے کے بعد حملے کا ہدف بننے والے مقام کے سیٹلائٹ امیجز کو جمع کرکے متاثرہ مقام کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ مقام تہران سے 340 کلومیٹر جنوب میں اصفہان شہر میں کیا گیا۔

نئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ حملے نے روسی ساختہ S-300 ایئر ڈیفنس سسٹم کے ایک اہم اور مخصوص حصے کو نشانہ بنایا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آٹھویں شیکاری ایئر بیس پر ہونے والے حملے نے S-300 سسٹمز میں استعمال ہونے والے "موونگ کور" ریڈار کو نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا۔

اس تناظر میں امریکی حکومت کے سابق تصویری تجزیہ کار کرس بگرز نے وضاحت کی کہ ریڈار عموماً کئی وہیکل گاڑیوں میں گھرا ہوتا ہے جن میں میزائل لے جانے والے چار ٹرک بھی شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حملے سے پہلے یہ میزائل ریڈار کے قریب لگائے گئے تھے لیکن حملے کے بعد انہیں جگہ سے ہٹا دیا گیا اور ان سے کوئی واضح نقصان نہیں ہوا۔

اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ میزائلوں کو کیوں منتقل کیا گیا تھا، لیکن ان کی ظاہری شکل سے پتہ چلتا ہے کہ حملے کا ہدف بہت درست تھا۔

ایئربیس سےملحقے مقامات متاثر نہیں ہوئے

تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایئر بیس اور ملحقہ ہوائی اڈے کے دیگر علاقوں کو نقصان نہیں پہنچا۔ بہت سے حساس مقامات قریب میں موجود ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ایک مخصوص اور تنگ ہدف کا انتخاب کیا، جو کہ فضائی دفاعی نظام ہے۔

ایران نے اسرائیل اور دیگر فضائی حملوں کو روکنے کے لیے روسی ساختہ S-300 ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کیا۔

قابل ذکر ہے کہ تہران نے اپنے حکام کے پچھلے بیانات میں اس حملے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی تھی کہ اسے اسرائیلی میزائلوں یا حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایران نے صرف یہ کہا تھا کہ اس نے چند ڈرون مار گرائے تھے۔

"بچوں کا کھیل"

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے حملے کو بچوں کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ملک کے "مفادات" کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا ایرانی جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔

اسرائیلی ایئر بیس کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر
اسرائیلی ایئر بیس کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر

قابل ذکر ہے کہ تہران نے گذشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ "فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرونز کو مار گرانے میں کامیابی حاصل کی"۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی تھی کہ ایران میں میزائلوں سے حملے کیے گئے تھے۔

جبکہ امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل نے 13 اپریل کو ایران کے اس غیر معمولی حملے کے جواب میں ایران پر حملہ کیا۔

اس حملے کے بعد جہاں بین الاقوامی برادری نے فوری طور پر پرامن رہنے کی اپیل کی تھی وہیں غزہ کی پٹی میں چھ ماہ سے زیادہ پہلے شروع ہونے والی جنگ کے پس منظر میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔

13 اپریل کو ایران نے اسرائیل پر 300 سے زیادہ میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ ایک غیرمسبوق حملہ کیا۔ یہ حملہ یکم اپریل کو اسرائیلی حملے کے ذریعے دمشق میں اس کے قونصل خانے کے ہیڈ کوارٹر کو تباہ کرنے کےردعمل میں کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں