سعودی عرب میں واقع وہ چھ مقامات جو لافانی محبت کی داستانوں کے عینی شاہد کہلاتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ہو سکتا ہے کہ آپ سعودی عرب کی کسی ایسی سائٹ کے قریب ہوں جو لازوال محبت کی کہانیوں کا محور ومرکزرہی ہو۔ اس کہانی کے ہیروز نے ان داستانوں کو شاعری کے ذریعے امر کردیا اور آج ہم نسل در نسل منتقل ہونے والےشعری مجموعوں سے ان داستانوں کے بارے میں جان کاری حاصل کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہو جس میں محبت کی داستان رقم نہ ہوئی ہو۔ اس کے ہیرو اپنی کہانی کو جگہوں اور مقامات کے ناموں سے بیان کرتے ہیں اور آج ہم ان جگہوں کو اشعار میں ان کے ناموں کے ساتھ جان سکتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت سے لے کر عباسی دور کے اختتام تک ایسی کئی محبت کی داستانیں وجود میں آئیں جن کے تذکرےرہتی دنیا تک کیے جاتے رہیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب کی سرزمین پر وجود پانے والی محبت کی داستانوں کی وجہ سے مشہور مقامات اور ان لوک کہانیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ مقامات درج ذیل ہیں۔

عنترہ اور عبلہ

سعودی عرب کے علاقے القصیم مین ’الجوا‘ ان مشہور مقامات میں سے ایک ہے جس نے ایک لازوال محبت کی کہانی کا مشاہدہ کیا۔یہ کہانی مشہور شاعر عنترہ بن شداد اور عبلہ کی لافانی محبت کی یادگار ہے۔ انہوں نے اپنی محبوبہ کے لیے ایک طویل نظم کا اْغاز اس شعر سے کیا۔ "يا دار عبلة بالجواء تكلمي وعمي صباحاً دار عبلة واسلمي". ’اس مقام پرموجود میری محبوبہ کےگھر مجھ سے بات کرو اور اپنے اہل خانہ کا پتا دو کہ ان کے ساتھ کیا گذری۔ میری طرف سےمیری محبوبہ کو صبح بخیر اے میری محبوبہ کے دولت کدے‘۔

یہ علاقہ تقریباً 1,600 سالوں سے ایک ہی نام کا حامل ہے جس میں عیون الجوا، روض الجوا، غاف الجواء، القوارہ اور القصیباء شامل ہیں۔ عنترہ بن شداد کی شاعری میں انہیں جنگ اور محبت کا شاعر سمجھا جاتا ہے ایک ہی وقت میں وہ جنگ اور محبوب کو جمع کرتے ہیں۔ وہ اپنی محبوبہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کے ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’میں نے آپ کا ذکر اس وقت کیا جب نیزے میرے اندر تھے اور میرے خون سے ہندوستانی انڈے ٹپک رہے تھے۔ تو میری تلواروں کو چومنا چاہتی تھی کیونکہ وہ تمہارے مسکراتے ہونٹوں کی چمک کی طرح چمکتی تھیں‘‘۔

قیس لیلیٰ

ایک سعودی شہر آج بھی لیلیٰ اور ’التوباد‘ پہاڑ کے نام مشہورہے۔ یہ مجنوں لیلیٰ کے لازوال کہانیوں کا گواہ ہے۔ اسے کئی دوسرے ناموں سے پکارا جاتا تھا۔ اس کا لقب اس کے محبوب کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس کا پرانا نام قیس تھا جو لیلیٰ کے عاشق کا نام ہے۔

توباد پہاڑ جسے عاشق "قیس" اکثر اپنی نظموں میں کہتے ہیں شہر الافلاج میں واقع ہے، جس کا مرکز لیلیٰ ہے اور عربوں میں محبت کا سب سے مشہور شہر ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ

’جب میں نے اسے التوباد میں دیکھا تو میں خوشی سے ہانپ گیا۔ر جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے خدائے الرحمان الرحیم‘ کی حمد و ثناء بیان کی‘۔

عہد جدید کے شاعروں میں امیر الشعراء ’احمد شوقی‘ نے بھی اپنےکلام میں ’توباد‘ کا ذکر کچھ یوں کیا۔

’توباد پہاڑ تجھے خدا نے زندگی سے نوازا ہے۔ خدا آپ کو پانی اور پرہیزگار جوانی عطا کرے۔

کوہ توباد اور لیلیٰ شہرکے مشہور مقامات کو میں کوہ توباد جتنی چوڑی غار کو دیکھنے سیاح دور دور سے آتے ہیں۔ وہ یہاں آکر محبت کرنے والوں کی ملاقات اور ان کی کہانیوں کے بارے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

جمیل اور بثینہ

یہ کہانی سعودی عرب کے سب سے زرخیز آثار قدیمہ کے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں وادی القراء میں مشہور العلا نخلستان واقع ہے۔ اگرچہ جمیل اور بثینہ کہانی کا آغاز مختلف تھا، کیونکہ اس کی ابتدا گالم گلوچ سے ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے درمیان محبت کی چنگاری اس وقت روشن ہوئی جب دونوں میں جمیل کے ایک اونٹ کے بارے میں تلخ کلامی ہوئی۔ یہ وادی بغیض جو وادی القریٰ کی شاخوں میں سے ایک ہے میں ہوئی تھی۔ بثینہ نے جمیل کو برا بھلا کہا جس کےجواب میں جمیل نے محبت سےجواب دیا اور موقعے پر شعر کہے جن کا مفہوم یہ ہے کہ

’اے بثینہ وادی بغیض میں سب سے پہلی چیزجو ہمارے درمیان پیار کا سبب بنی وہ ایک نفرت انگیز گالی ہی تو تھی۔ ہم نے اس سے جو کچھ کہا وہ اس کی بات کا برابر کا جواب تھا کیونکہ اے بثینہ ہربات کا کوئی جواب ضرور ہوتا ہے‘‘۔

باقی مشہورمقامات جنہوں نے جمیل اور بثنیہ کی کہانی کا مشاہدہ کیا وہ العلا کے شمال میں واقع ہیں جہاں بثنیہ دنیا کے امیر ترین آثار قدیمہ کے مقامات میں سے ایک صحرا میں رہتی تھی۔

کثیر عزہ

کثیر عزہ کی کہانی ان کی جائے پیدائش کا پتا دیتی ہے جو رابغ گورنری میں واقع گاؤں "کلیہ" جو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے میں موجود ہے۔ اسی گاؤں کے قریب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرھجرت کے مراحل طے ہوئے۔

دیگر عرب شعراء کی طرح’کثیر عزہ‘ نے خطوں، مقامات اور پہاڑوں یا ان کے ناموں کا تفصیلی تذکرہ نہیں کیا مگرمورخین نے اس مقام پر ان کی پیدائش کا اندازہ لگایا ہے۔

شاید وادی الشبا وہ جگہ مدینہ منورہ کے مضافات میں واقع ہے۔ یہ ان چند مقامات میں سے ایک ہے جن کا شاعر نے تذکرہ کیا ہے جب اس کی محبوبہ کی رخصتی ہوئی۔ جب اس کی محبوبہ کی شادی اس کے گھر والوں نے کی تو کثیر عزہ نے اس پر شعر کہے۔

آنکھوں میں آنسو لیے کہتا ہوں دھیان سے دیکھو شائد جو نہیں دیکھا اس کے ساتھ بے ضمیر گواہی دیتا ہے۔ مجھے احساس ہی نہ ہوا کہ آنکھ اس کی جدائی سے قبل الشباء میں جم گئی تھی۔

مجنوں لبنیٰ

مجنوں لبنیٰ قیس بن ذریح کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ اپنے زمانے کے مشہور عاشقوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا جو مجنوں لیلیٰ کی طرح "قیس" کا نام استعمال کرتا تھا۔ ان کا دور مجنون لیلیٰ کے دور سے پہلے کا ہو سکتا ہے۔ قیس دوم کا دور عبد الملک بن مروان کے دور میں ملتا ہے۔

بنی خزاعہ کے مقامات کے مطابق مکہ اور اس کے آس پاس کے صحراؤں میں واقع مر ظہران کے مقامات پر یہ انوکھی کہانی دیکھنے کو ملی کیونکہ یہ ان دائمی محبت کی کہانیوں میں سے واحد کہانی ہے جس میں شادی تو اس کا مقدر ٹھہری مگر جدائی بھی ہوگئی۔ قیس بن ذریح کے گھر والوں اس وقت ان کی علاحدگی کرائی جب لبنیٰ سے اس کی اولاد نہ ہوئی۔ قیس اس جدائی کو برداشت نہ کرسکا اور پھٹ پڑا۔

وہ کہتا ہے:

’تو لبنیٰ کے لیے روتا ہےحالانکہ تونے اسے چھوڑ دیا۔ یاد کر وہ تجھ سے زیادہ طاقتور تھی۔ اگردنیا لبیٰ کو واپس کردے تو زمانہ اور دنیا پیٹ اور پیٹھ بن جائیں‘۔

مجنوں لبنیٰ ان شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے اس قصے کے مقامات کا تذکرہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اس سب سے اہم چیز کا نام دیا جو ان کی پیاری سرزمین کی چراگاہوں کو ممتاز کرتی ہے

توبہ اور لیلیٰ الاخیلیہ

اس مشہور قصے میں جو پہلی صدی ہجری میں نجد کے پہاڑوں کے ایک مقام پر پیش آیا میں موجود بہادری دوسری لیلیٰ میں جھلکتی ہے۔اس کا نام لیلیٰ، قیس کی محبوبہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اگرچہ دونوں لیلاؤں کے درمیان زمانی فاصلہ تھا۔ محبت کی لعنت نے اس نام کو متاثر کیا ہو گا جیسا کہ لیلیٰ اور مجنوں کی کہانی لیلیٰ دونوں کو امر کرگئی۔

ادبی کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ لیلیٰ الاخیلیہ ہی تھی جس نے توبہ بن الحمیر کے ساتھ محبت کی کہانی کو اپنی شاعری میں امر کر دیا۔ عرب محبت کی کہانیوں کے برعکس یہاں ایک خاتون نے اپنے اپنے محبوب کے لیے اشعار کہے۔

لیلۃ اخلیہ کا محبوب توبہ اس سے قبل وفات پا گیا۔ ایک بار وہ اپنے شوہر کے ہمراہ اس کی قبر کے پاس سے گذری اس نے توبہ کی قبرکو سلام کرنے کی اجازت چاہی۔ شوہر نے اجازت نہ دی تو لیلۃ نے اس پر اشعار کہے۔

اس نے کہا کہ میں تب تک نہیں جاؤں گی جب تک کہ میں توبہ کو سلام نہ کروں۔ اس پر جب اس کے شوہر نے اسے قبر پرجانےکی اجازت دے دی۔ اس

نے قبر پر کھڑے ہو کر کہا کہ:

’اگرچہ لیلیٰ الاخیلیہ ابھی تک زندہ ہے مگر میرےاوپر اور نیچے مٹی اور چادر ہی ہے ۔میں نے خوش دلی سے سلام کیا یا پکارا۔ اس کی قبر کے کنارے بس چیخنے کی آواز ہے‘۔ وہ لیلۃ کو نہ پانے کی وجہ سے اس سے رشک کرتا تھا۔

جب وہ یہ اشعارکہہ کر پیچھے پلٹی اور اپنے اونٹ پر سوار ہوئی۔ قریب ہی ایک الو بیٹھا تھا وہ اڑا اور اونٹ کے سامنے سے گذرا جس پر اونٹ خوف زدہ ہو کربدک گیا۔ لیلیٰ لڑکھڑا گئی اور اونٹ سے کمر کے بل نیچے گر کردم توڑ گئی۔ اس کی قبر اس کے محبوب کی قبر کے ساتھ بنائی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں