فلسطینی گروپ باہمی اتحاد سے کام لیں، ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صدر ترکیہ رجب طیب ایردوآن نے حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے ساتھ طویل ملاقات کے بعد فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی صورت حال جنگ کے درمیان متحد ہو جائیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کئی گھنٹوں پر محیط رہی۔ جس میں غزہ میں جنگ، انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کی صورت حال اور سفارتہ محاذ پر موجود چیلنج بھی زیر بحث آئے۔

صدر ایردوآن فلسطینی تحرک مزاحمت حماس کے حامی سمجھے جاتے ہیں تاہم انہیں غزہ جنگ کے دوران ایک ثالث کے طور پر قبولیت یا پذیرائی نہیں مل سکی ۔ اگرچہ انہوں نے اس ثالثی کے کردار کے لئے کوششیں بھی کی ہیں۔ اب جبکہ غزہ کی جنگ سات ماہ کو پہنچ رہی ہے اور اس جاری جنگ کا دائرہ پھیل کر مشرق وسطی کے دوسرے ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ جیسا کہ ایران اور اسرائیل بھی ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں یہ ملاقات آبنائے باسفورس کے کنارے واقع ڈولماباحس محل میں ہوئی اور ترک میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ڈھائی گھنٹے سے زیادہ دیر تک رہی۔

صدر ایردوآن کہا ، یہ ضروری ہے کہ فلسطینی اسمشکل تریں گھڑی میں اتحاد کے ساتھ کام کریں۔ ترکیہ کے ایوان صدر کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایردوآن نے کہا ، اسرائیل کے خلاف سخت ترین ردعمل اور فتح کا راستہ صرف اتحاد سے ممکن ہے۔

واضح رہے حماس کو امریکہ، یورپی یونین اور اسرائیل نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھل ہے۔

حماس کا سیاسی حریف گروپ مقبوضہ مغربی کنارے میں نیم خود مختار فلسطینی اتھارٹی پر حکومت کرتا ہے۔ جیسا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو جنم دیاہے، ایردوآن نے کہا کہ حالیہ واقعات کو اسرائیل قبضے کا جواز نہیں بن سکتے۔
انہوں نے مزید کہا ،غزہ پر توجہ مرکوز رکھنے والے طریقے سے کام کرنا ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں