اسرائیل پر حملے کے لیے سپریم لیڈر کا ایرانی فوج کے لیے اظہار تشکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایران کے اعلیٰ ترین رہنما علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف آپریشن پر ملک کی مسلح افواج کا شکریہ ادا کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ "مسلسل فوجی اختراعات جاری رکھیں اور دشمن کی چالوں کو سیکھیں۔"

تہران نے 13 اپریل کو سرِعام اسرائیل کو 300 سے زائد میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جس میں کہا گیا کہ یہ اسرائیل کی جانب سے یکم اپریل کو دمشق میں اس کے سفارت خانے کے احاطے پر مشتبہ مہلک بمباری کا بدلہ تھا۔

خامنہ ای نے اتوار کو کہا، "کتنے میزائل داغے گئے اور ان میں سے کتنے میزائلوں نے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا، یہ بنیادی سوال نہیں ہے۔ اصل میں اہم بات یہ ہے کہ ایران نے اس کارروائی کے دوران اپنی قوتِ ارادی کا مظاہرہ کیا"۔

جمعہ کے اوائل میں ایرانی شہر اصفہان میں دھماکوں کی بازگشت سنائی دی جس کے بارے میں ذرائع نے کہا کہ یہ ایک اسرائیلی حملہ تھا لیکن تہران نے اس واقعے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا جوابی کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا- یہ ایک ایسا ردِعمل تھا جس کا مقصد بظاہر خطے میں جنگ کو روکنے کی طرف تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں