حائل کے ثمودی آرٹ سے متاثر سعودی آرٹسٹ کے فن پاروں کی دھوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی فائن آرٹ کی ماہر آرٹسٹ عفاف العساف نے حال ہی میں’من تاریخنا‘ [تاریخ کے جھروکوں سے]کے عنوان سے منعقد ہونے والے مقابلےمیں پہلی پوزیشن حاصل کرکے فائن آرٹ کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

عفاف کا آرٹ ورک اس کے آبائی شہر حائل میں ہزاروں برس پرانے ثمودی راک آرٹ سے ماخوذ ہے اور یہی راک آرٹ اس کے فنون لطیفہ کی طرف آنے کا ایک ذریعہ ثابت ہوا۔

تجریدی آرٹسٹ عفاف العساف نے اپنی تخلیقات میں حقیقت پسندی اورتجرید کے مکتب تک رسائی حاصل کی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جبہ‘ اور ’الشویمس‘ کے تاریخی پہاڑوں کے دورے اور ثمود کے آثار کو دیکھنےکے بعد ڈرائنگ میں اس فن سے متاثر ہوئی۔ ثمودی نوشتہ جات اور راک آرٹ میرے آرٹ کا ایک لازمی حصہ بن گئے۔اس میں شہرمیں آباد تاریخ، نوادرات اور تہذیبوں پر توجہ مرکوز کرکےحائل اورینٹیشن اور اسٹائلسٹک خصوصیات کو ڈرائنگ کیا۔ س طرح آٹھویں صدی سے تیسری عیسوی قبل مسیح کے کے دور کے راک آرٹ کو اپنے فن پاروں کی شکل میں منتقل کیا۔

نقطہ اغاز

عفاف العساف نے مزید کہا کہ میں اپنے والد اور والدہ سے متاثر تھی۔ میں اپنے والد کو ڈرائنگ اور خطاطی کرتے دیکھتی تھی۔ میری پرائمری تعلیم کے دوران میری آرٹ ٹیچر نے میری حوصلہ افزائی کی۔ اسکول کے صحن میں جس نے میرے اندر ایک بصری فنکار بننے کی خواہش پیدا کی میں آرٹ سیکھنے کے بعد حائل کے علاقے میں ثقافت اور آرٹس ایسوسی ایشن میں شمولیت اختیار کی۔ میں نے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران بھی آرٹ کی مشق جاری رکھی۔

مشق اور تجربہ

عساف نے مزید کہا کہ میں نے کئی سالوں تک مشق اور تجربات کے ذریعے فن سیکھا۔ تجریدی اور فنون کے اداروں میں شمولیت اختیارکی، جہاں میں نے امتیازی تجربات حاصل کیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ میرا پیغام میرے فن سے عیاں ہے جوتہذیب کی تعمیرمیں ایک موثرکردار ادا کرتا ہے۔ یہ فن ترقی اورنمو کا ایک مسلسل محرک ہے اور معاشرے کوجمود اور تنزلی سے بیدار کرنے کا ایک لازمی عنصر ہے۔ فن کے احساس کے ذریعے ایک بلند مقصد کا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں