غزہ: اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ماں کی ’روح‘ کو زندگی مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری ، والدین بہن بھائی اور خاندان کے 13 بچے جاں بحق ہو گئے۔ مگر ننھی روح نے جنم لے ٔلیا۔ انکوبیٹر رکھی اس ننھی اور معصوم جان کو ابھی کئی دن ہسپتال میں گذارنا ہوں گے۔ لیکن نہیں معلوم اس کی پرورش کے لئے کونسے باقی بچ گئے رشتہ دار کا انتخاب ہو سکے گا۔

فلسطینی وزارت صحت کا بتانا ہے کہ رفح شہر ہونے والی ایک بمباری کے نتیجے میں زحمی ہو کر جاں بحق ہونے والی ایک فلسطینی خاتون نے شہادت سے پہلے ایک بچی کو جنم دے دیا ہے۔ اس نومولود بجی کی بڑی بہن جو بمباری میں ہلاک ہو چکی ہے وہ اپنی اس چھوٹی بہن کا نام روح رکھنا چاہتی تھی۔

یہ بات بچی کے زندہ بچ گئے چچا نے بتائی ہے۔ اس لئے نومولود مگر یتیم ہو چکی اس بچی کا نام روح رکھ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ روح اس دنیا میں اپنے ماں باپ کو دیکھ سکی نہ اپنی بڑی بہن کو جس نے اس کی پیدائش سے بھی اس کے لیے روح نام تجویز کر رکھا تھا۔

نومولود کے چچا نے بتایا دو مکانوں پر ہونے والی بمباری سے ایک ہی خاندان کے 13 بچے بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔

نومولود کی دیکھ بھال کرنے والے ایک ڈاکٹر محمد سلامہ نے بتایا بچی کا وزن ایک اعشاریہ چار کلوگرام ہے اور اس کی ہنگامی سی سیکشن میں ڈیلیوری ہوئی تھی۔ اب بچی کی حالت مستحکم اور بہتر ہو رہی ہے۔

نو مولود بچی روح: رائیٹرز
نو مولود بچی روح: رائیٹرز

روح کے چچا نے بتایا بچے کو رفح ہسپتال کے ایک انکیوبیٹر میں ایک اور شیر خوار بچے کے ساتھ رکھا گیا تھا، اس کے سینے پر ٹیپ پر جاں بحق سبرین السکانی کا بچہ کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ اس کے چچا رامی الشیخ نے بتایا کہ السکانی کی بڑی بیٹی ملائکہ ، جو حملے میں جاں بحق ہو گئی تھی گئی تھی، اپنی نئی بہن کا نام روح رکھنا چاہتی تھی، انہوں نے کہا کہ چھوٹی بچی ملک خوش تھی کہ اس کی بہن دنیا میں آ رہی ہے۔

ڈاکٹر سلامہ کے مطابق بچی کو تین سے چار ہفتوں تک ہسپتال میں رکھا جائے گا۔اس کے بعد ہی فیصلہ ہو سکے گا کہ یہ بچی خاندان کے بچ گئے افراد میں سے کس کے پاس جاسکے گی۔ خالہ، چچا یا دادا دادی کے پاس رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں