اس شخص سے لڑیں جو ہماری فوج کو سزا دینے کا سوچے گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی "نتساح یہودا" بٹالین کے خلاف امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے متوقع پابندیوں سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے اس حوالے سے اپنا تبصرہ بھی کر دیا۔ صہیونی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کے خلاف لڑیں گے جو یہ مانتا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج پر پابندیاں لگا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر بینی گینٹز کے دفتر نے اطلاع دی ہے کہ جنگی کابینہ کے ایک رکن نے بلنکن سے بات کی اور ان سے کہا ہے کہ وہ "نتساح یہودا" بٹالین پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں

ہم آگاہ نہیں

یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ "نتساح یہودا" بٹالین پر امریکی پابندیوں سے آگاہ نہیں ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری "نتساح یہودا" بٹالین ایک فعال جنگی یونٹ ہے اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بٹالین پر پابندیاں عائد کرنے کے متعلق آئی ڈی ایف آگاہ نہیں ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کا جائزہ لیا جائے گا اور کسی بھی غیر معمولی واقعے کی تحقیقات کے لیے کام جاری رکھا جائے گا۔

امداد یا فوجی تربیت روکنے کا امکان

امریکی ذرائع کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے "نتساح یہودا" بٹالین پر پابندیاں عائد کرنے کی توقع ہے۔ ان پابندیوں کے تحت بٹالین کو کسی بھی قسم کی امریکی امداد یا فوجی تربیت حاصل کرنے سے روک دیا جائے گا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پابندیاں لیہی قانون کے تحت عائد کی جائیں گی۔ 1997 میں جاری یہ قانون امریکی امداد کو ایسے سکیورٹی اور فوجی یونٹوں تک پہنچنے سے روکتا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔

انتہا پسند فوجیوں کا یونٹ

"نتساح یہودا" ایک بٹالین ہے تاکہ الٹرا آرتھوڈوکس اور دوسرے اسرائیلی فوجی اس بٹالین میں اس احساس کے بغیر خدمات انجام دے سکیں کہ وہ اپنے عقائد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل اخبار کے مطابق یہ مغربی کنارے میں ایک یونٹ کے طور پر بھی کام کرتا تھا۔ یہ بٹالین یا یونٹ بنیادی طور پر حریدی مردوں اور انتہا پسند نوجوانوں پر مشتمل تھا جو انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھتے تھے۔ انہیں اسرائیلی فوج میں دیگر جنگی یونٹوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔

یونٹ کے ارکان نے کئی متنازعہ پرتشدد واقعات میں حصہ لیا ہے۔ انہیں ماضی میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد اور ناروا سلوک کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھ

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں