نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر یرغمالیوں کے لیے ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی مظاہرین نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی رہائش کے باہر سخت احتجاج کے دوران علامتی 'سیڈر ٹیبل' کو آگ لگا دی۔ مظاہرین غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی میں وزیراعظم نیتن یاہو کی ناکامی پر احتجاج کررہے تھے۔ یہ مظاہرہ یہودی تہوار کے سلسلے میں چھٹی کے روز کیا گیا۔

مظاہرین یرغمالیوں کی رہائی کے لیے پچھلے تقریباً 7 ماہ سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی یرغمالیوں کی رہائی کے سلسلے میں پالیسی اور جنگی پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہرین میں یرغمالیوں کے خاندان کے لوگ، رشتے دار اور عام لوگ شامل ہیں۔

مظاہرین یہ سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو اپنی حکومت کو بچائے رکھنے کے لیے جنگ کو ختم کر نے اور یرغمالیوں کو رہا کروانا درست نہیں سمجھتے۔

تقریبا سات ماہ سے جاری اس احتجاج کو مظاہرین نے ہزاروں کی تعداد میں یہودی تہوار والے دن بھی جاری رکھا۔ یہ یہودی تہوار تاریخی طور پر یہودی عوام مصری غلامی سے نجات کی یاد میں مناتے ہیں اس نجات کی خوشی میں دسترخوان سجائے جاتے ہیں 'سیڈر ٹیبل' اسی یہودی دسترخوان کی ایک علامت ہے جس پر بیٹھ کر یہودی خوشی مناتے اور اجتماعی طور پر کھانا کھاتے ہیں۔

مظاہرین نے یرغمالیوں کی رہائی کے حق میں اس علامتی میز کو جو ان کی آزادی اور خوشی کی علامت ہے جلا کر احتجاج کیا کہ نیتن یاہو کی حکومتی پالیسی کی وجہ سے اسرائیلی یہودی اس خوشی سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو یرغمالیوں کے اہل خانہ کے اس مسلسل احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے تاریخی حملے کے بعد مجموعی طور پر 240 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا گیا تھا جس میں سے 129 ابھی بھی حماس کی قید میں ہیں۔ اسرائیلی مظاہرین کے لیے یہ بہت تشویش کی بات ہے کہ اب تک نیتن یاہو کی جنگی پالیسی کے نتیجے میں اسرائیلی فوج ایک بھی یرغمالی کو رہا کرانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے جبکہ متعدد یرغمالی اسرائیلی فوج کی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوچکے ہیں اس کے باوجود نیتن یاہو جنگ بندی کر کے یرغمالیوں کو رہا کروانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
پچھلے تقریباً سات ماہ کے دوران یرغمالیوں کے حق میں اور نیتن یاہو کے خلاف یہ اب تک کا تازہ ترین احتجاج وزیراعظم ہاؤس کے باہر ہوا۔

اسرائیل کے ساحلی شہر قیصریہ میں وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاج میں شریک مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں اسرائیلی حکومت کی مذمت کے نعرے درج تھے۔

54 سالہ ایک احتجاجی کارکن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا نیتن یاہو یرغمالیوں کی ہرگز رہائی نہیں چاہتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس سلسلے میں جنگ ختم کرنا پڑے گی اور جنگ ختم ہونے کے بعد نیتن یاہو کو جیل جانا پڑے گا۔ گائے بین ڈرور نے بڑےدو ٹوک انداز میں کہا کہ نیتن یاہو یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہی نہیں ہیں اور یہ اسرائیلی تاریخ کے بدترین وزیراعظم ہیں۔

62 سالہ ایک اسرائیلی وکیل نے کہا میں آ ج آزادی کی چھٹی نہیں منانا چاہتا اس لیے مظاہرے میں شریک ہوں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارے بہت سارے بہن بھائی غزہ میں قید ہوں اور ہم آزادی کی چھٹی منا رہے ہوں ایک وکیل نے کہا کہ ہم اسرائیلیوں کا یہ یقین ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کا زمہ دار کوئی اور نہیں نیتن یاہو ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر لائل لیپرڈ نے ایک روز قبل باضابطہ طور پو یہ مطالبہ کیا ہے کی نیتن یاہو استعفیٰ دے کر گھر جائیں کیونکہ سات اکتوبر کو ہونے والے حملے کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کی نیتن یاہو کی وجہ سے اسرائیل کی سلامتی اور فوجی قوت کا بھرم ٹوٹ گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے سربراہ نے حماس کا حملہ روکتے ہوئے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں