اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا امریکہ میں بھی اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی اور اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی و اسلحی امداد دینے والے ملک امریکہ کی جاری کردہ انسانی حقوق رپورث میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ نے انسانی حقوق کی صورت حال پر گہرا منفی اٹر ڈالا ہے۔ انسانی حقوق کی یہ رپورٹ غزہ جہاں 34 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی فوج نے ہلاک کیے ہیں اور جن میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور فلسطینیوں کی سینکڑوں کی تعداد ہلاکتوں کا حوالہ دیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ اس جنگ کے باعث سنگین انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے سات ماہ مکمل ہونے والے ہیں اور امریکہ سمیت اس کے بڑے اتحادی اس کے ساتھ اس جنگ میں کندھا سے کندھا ملا کر ہر طرح کی فوجی و سفارتی امداد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صرف امریکہ نے اسرائیلی جنگ کو غزہ میں جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کم از کم تین بار سلامتی کونسل میں جنگ بندی قرار دادوں کو ویٹو کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کچھ ذکر امریکی رپورٹ میں پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔ یہ سالانہ امریکی رپورٹ پیر کے روز جاری کی گئی ہے۔

امریکہ کی سالانہ بنیادوں پر مرتب کردہ اس رپورٹ میں غیر قانونی اور خصوصاً بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر کی گئی انسانی ہلاکتوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جبری طور پر لاپتہ کیے گئے شہریوں کا تذکرہ ہوتا ہے اور پر تشدد واقعات اور بلا جواز گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ میڈیا اور اس سے وابستہ افراد کے ساتھ برتاؤ کو رپورٹ کا حصہ بنا کر جائزہ لیا جاتا ہے کہ مجموعی انسانی حقوق کی صورت حال کیا رہی۔

امریکی دفتر خارجہ کے مطابق یہ رپورٹ سال 2023 کے واقعات کے جائزے پر مبنی یے۔

تاہم رپورٹ کے جو حصے شائع ہو کر عوامی سطح پر آئے ہیں ان میں امریکہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے بعض ایسے اقدامات بھی کیے ہیں جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والے حکام کی نشاندہی ہوئی یا انہیں سزا دی گئی، تاہم شائع شدہ دستیاب حصے میں ان سزاؤں کا ذکر ہے اور نہ ہی سزاؤں کے حق دار قرار پائے اسرائیلیوں کا تذکرہ ۔

امریکی انسانی حقوق رپورٹ میں غزہ جہاں مسلسل تقریبا سات ماہ سے اسرائیلی بمباری جاری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوںے والے افراد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس مغربی کنارے میں سات اکتوبر کے بعد سے اب تک کم از کم 460 فلسطینی ہلاک کیے گئے ہیں۔

اہم بات ہے کہ اب تک عالمی فورمز پر امریکہ کا یہی موقف رہا ہے اسرائیل نے ایسا کچھ نہیں کیا، بلکہ اسرائیلی حق دفاع کی وکلات کی گئی ہے۔ لیکن اس امریکی رپورٹ میں اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں پایاگیا ہے۔

خیال رہے امریکہ سالانہ بنیادوں پر اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے۔ تاہم امریکہ کو اب اپنے ہاں بائیں بازو کے ڈیموکریٹس اور عرب امریکی گروپس کی طرف سے اسرائیلی حمایت کی پالیسی پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ حتی کہ جنگ کے ساتویں ماہ کے دوران صدر جوبائیڈن بھی عوامی اور سیاسی و سفارتی دباؤ کے ماحول میں یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں میں شریک افراد کو ثحفظ دے۔ صدر جوبائیڈن کا یہ۔مطالبہ ایک امریکی ادارے سے وابستہ سات رکنی ٹیم کی غزہ میں ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں